اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 221
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۲۱ خطاب ۲۷ جولائی ۱۹۹۱ء ایسا وجود جو اپنے جیسی تصویریں بنانے لگ جائے اور کثرت سے بنانے لگ جائے۔تبھی قرآن کریم نے آنحضرت ﷺ کے ذکر کے ساتھ فرمایا محمد رسول الله والذين معه (الفتح ۳۰) کہ دیکھو محمد اکیلا نہیں رہا اب وہ جو اس کے ساتھی تھے وہ بھی اس جیسے ہو گئے ہیں۔والذین معہ سے مراد ہے کہ صفاتِ حسنہ میں اس کی معیت اختیار کر گئے ہیں۔پس ان معنوں میں حقیقت میں صحیح تغیر پیدا ہوتا ہے لیکن اگر مہر پر وہ نقش نہ ہو تو کیسے وہ کسی اور چیز پر نقش ثبت کرے گی۔بعض مہریں مٹ جاتی ہیں۔جہاں جہاں سے وہ مٹتی ہیں جب ان کا نقش ظاہر ہوتا ہے تو وہاں ایک خام نقش ظاہر ہوتا ہے۔ایک عیب دارنقش ظاہر ہوتا ہے اور بعض حروف مٹے ہوئے ہوتے ہیں۔بعض نشان مٹے ہوئے ہوتے ہیں۔مشکل سے انسان پہچانتا ہے یہ کون سی مہر تھی جس کا نقش مثبت ہوا ہے۔پس بعینہ اسی طرح انسان کی کیفیت ہے۔انسان جب خدا تعالیٰ کی ذات کو اپنے اندر ثبت کرتا ہے اور اس طرح ثبت کرتا ہے کہ وہ گہرے نقوش چھوڑ جائے اس وقت وہ مہر میں تبدیل ہونے لگتا ہے۔گویا اس پہلو کے لحاظ سے خدا سے تعلقات کے دو قدم ہیں۔ایک قدم ہے خدا کی صفاتِ حسنہ سے پیار اور محبت کے ذریعہ ایسا تعلق جوڑنا کہ وہ بالآخر آپ کے وجود میں ظاہر ہو جائیں۔دوسرا قدم یہ ہے کہ اس کے نقوش کو اتنا گہرا کر دینا کہ پھر وہ دوسروں کے وجود میں ظاہر ہونے کی صلاحیت رکھے۔چنانچہ مہر کو ھر چ کر بنایا جاتا ہے ورنہ مہر کے لفظ جو ہیں وہ اگر عام سطح پر لکھے گئے ہوں جس طرح کہ عام تحریریں لکھی جاتی ہیں تو مہر نہیں بن سکتی۔حالانکہ تحریر صاف پڑھی جاتی ہے۔مہر بنانے کا فلسفہ یہ ہے کہ وہ الفاظ ایسے گہرے کنندہ ہو جائیں ، انمٹ ہو جائیں، وجود ایسا حصہ بن جائیں کہ پھر وہ دوسروں تک اس اثر کو پہنچانے کی صلاحیت اختیار کر لیں۔پس خدا نما بننے کے لئے صرف خدا سے تعلق کافی نہیں بلکہ خدا سے ایسا گہرا تعلق ضروری ہے جس کے نتیجہ میں خدا کے نقوش غیروں تک منتقل ہونے کی صلاحیت حاصل کر لیں۔یہی وہ طریق ہے جس کے ذریعہ بنی نوع انسان کو امت واحدہ بنایا جاسکتا ہے کیوں کہ صرف ایک خدا کی ذات ہے جس کے حوالے سے انسان ایک ہاتھ پر اکٹھا ہو سکتا ہے اور کوئی حوالہ نہیں ہے اور کوئی حوالہ نہیں ہے جس سے آپ اس منتشر بنی نوع انسان کو ایک ذات میں اکٹھا کر سکیں۔اور اس کا طریق جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے یہی طریق ہے اس کے سوا کوئی طریق نہیں ہے۔باقی فرضی باتیں ہیں، قصے ہیں۔اپنی ذات میں خدا کوا تاریں اور یہ کام آپ کے بس میں نہیں ہے سوائے محبت کے۔محبت ایک عجیب طاقت ہے اس کی