اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 201
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۲۰۱ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۰ء کہ اگر بیاہ شادی کے موقع پر ریا کاری سے کام نہ لیا گیا تو لوگوں کے سامنے ہمارا ناک کٹ جائے گا بھئی ناک تو اس وقت کٹ گیا جب خدا کے سامنے کٹ گیا باقی ناک رہا کہاں ہے جس کو کاٹو گی۔جب خدا کی ہدایات سے روگردانی کی جب رسول کی ہدایات سے روگردانی کی جب اسلامی تعلیم کی طرف پیٹھ پھیر دی تو مومن کا ناک تو وہیں کٹ جاتا ہے باقی رہا ہی کچھ نہیں پھر اس بات کا کیا فکر ہے کہ باقی کیا رہتا ہے کیا نہیں رہتا امر واقعہ یہ ہے کہ دکھاوے نے بھی ہمارے معاشرے میں بہت ہی خوفناک اثرات مرتب کئے ہیں۔یہ باتیں ابتداء ہیں یا یہاں تک کہ کھانے میں نمک ہی زیادہ پڑ گیا کوئی معمولی سی بھی خرابی ہو تو یہاں شریکا فورا سر اٹھاتا ہے اور کہتا ہے فلاں وقت فلاں جگہ یہ خرابی ہوئی تھی۔اور پھر وہ باتیں کبھی بھولتے ہی نہیں اور وہ بے چاری اکیلی بیٹی جو کسی نے رخصت کی ہے کسی کے گھر میں اس کو محسوس ہوتا ہے کہ میں دشمنوں کے گھر میں آگئی ہوں۔ہر موقعے پر اس کو طعنے دیئے جاتے ہیں۔کبھی اس نے کھانا پکا یا اور وہ خراب ہو گیا تو کہا ہاں ہمیں پتا ہے کس ماں کی بیٹی ہو وہیں سے آئی تھی نا جہاں تمہاری شادی کے وقت یہ واقعہ ہوا تھا مہمانوں نے اُف تو بہ توبہ کی کسی نے لقمہ نہیں اٹھایا۔اٹھایا جاتا ہی نہیں تھا اس قسم کی مبالغہ آمیز با تیں اور پھر طعن و تشنیع کے ذریعے وہ اس بے چاری بچی کی زندگی اجیرن کر دیتی ہے پھر یہ باتیں اور زیادہ گہری ہو جاتی ہیں معاشرے کی بدیوں کی شکل میں جب اپنی بہو سے جیلس ہو جاتی ہے۔یہ چیز یہاں یورپ کے معاشرے میں تو کہیں دکھائی نہیں دیتی لیکن مشرقی معاشرے میں ہر جگہ موجود ہے ایک بیٹا جو اپنی بیوی سے پیار کرتا ہے جس کو بڑے شوق سے بظاہر اور بڑی چاؤ سے اس کی ماں نے بیاہ کر اپنے گھر میں بسایا اس وقت کے بعد سے وہ ماں اس کو اجاڑنے پر تل جاتی ہے۔کوئی موقع ایسا ہاتھ سے جانے نہیں دیتی جس سے اس بے چاری بیٹی کا گھر نہ اُجڑے۔چنانچہ بیٹے نے اس کی طرف التفات کیا تو ماں کو غصہ آگیا اور وہ بجھتی ہے کہ بیٹے کو اپنے ہاتھ میں قابورکھنے کا ایک ہی ذریعہ ہے کہ بہو کی برائیاں کھوج کھوج کر نکالی جائیں اور بیٹے کو بتائی جائیں اور اگر وہ خرابیاں نہ ہوں تو پھر بنائی جائیں وہ تو کوئی مشکل کام نہیں ہے۔بعض لوگ بڑی آسانی سے قصے گھڑ لیتے ہیں۔اور پھر اگر کبھی اس بہو نے اس نو بیاہتا اگر وہ غریب گھر سے امیر گھر میں آئی ہے اپنے بھائیوں سے کوئی حسنِ سلوک کر دیا اس پر قیامت ٹوٹ پڑتی ہے حالانکہ اکثر صورتوں میں ایسی عورتیں احتیاط کرتی ہیں اور اگر حسن سلوک کرتی ہیں تو اپنی کمائی سے کرتی ہیں۔مگر یہ ساسیں جن کا میں ذکر کر رہا ہوں خدا کرے آپ