اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 197 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 197

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۱۹۷ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۰ء حساب کتاب بھی نہیں کئے جاتے بلکہ نہ صرف یہ کہ غیر احمدی معاشرے میں بلکہ احمدی معاشرے میں بھی ایسی خرابیاں دیکھنے میں آئیں ہیں کہ باپ فوت ہو گیا یا ماں فوت ہوگئی اور جائیداد بائی نہیں گئی بلکہ یہ سمجھا گیا کہ ہمارے اکھٹے رکھنے کا خاندان کا ایک ذریعہ یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے حق کا مطالبہ نہ کرے زبان نہ کھولے اس بات پر کہ میری ماں یا میرے باپ کی جائیداد کا مجھے بھی حصہ دو بڑے بھائی یا خاندان میں اگر کوئی اور بڑا ہے اس کے سپر د معاملات رہے اور خاموشی سے شکوے لوگوں کے سینوں میں پلتے رہے اور دن بدن تکلیف بڑھتی رہی۔یہ احساس بڑھتا رہا کہ جس کے ہاتھ میں انتظامات ہیں یا جس کے نام پر جائیداد ہے وہ زیادہ استفادہ کر رہا ہے بہ نسبت دوسروں کے اور اس کے نتیجہ میں پہلی نسل بعض دفعہ اس بات کا برادشت کر بھی جاتی ہے لیکن آئندہ جو بچے پیدا ہوتے ہیں اور جوان ہوتے ہیں ان کے دل میں یہ بظاہر محبت کا رشتہ محبت کے رشتے کی بجائے نفرت کے جذبے میں تبدیل ہو جا تا ہے اور وہ اگر ابتدا میں نیت نیک بھی تھی تو چونکہ غلط اقدام تھا اس لئے وہ نیک نیت اچھا پھل نہیں دے سکتی اور اچھا پھل نہیں دے سکتی یہ ایک مثال ہے لیکن عملاً میرے سامنے ایسے بہت سے معاملات آتے ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ اس قسم کی غلط روایات جو اسلامی شریعت کے خلاف ہیں وہ یقینا بد نتائج پر منتج ہوتی ہیں اور اس سے معاشرے میں محبت بڑھنے کی بجائے نفرت پھیلتی ہے پس وہی معاشرہ صحیح معاشرہ ہے جو آپ کو دنیا میں پیش کرنے کا حق ہے جو اسلام کی تعلیم پر بنی ہے اور اس معاشرے کا کوئی رنگ نہیں ہے نہ وہ مشرق کا ہے نہ وہ مغرب کا ہے نہ وہ سیاہ ہے نہ سفید ، وہ نورانی معاشرہ ہے پس اس حد تک معاشرے کو Universalize کرنا چاہئے اس کو تمام دنیا میں پھیلانا چاہئے اور تمام بنی نوع کو انسان کی قدر مشترک بنانے کی کوشش کرنا چاہئے۔جس حد تک وہ کسی معاشرے کے پہلو اسلام سے روشنی پا رہے ہیں اور اس کی بنیادیں اسلام میں پیوستہ ہیں۔مگر ہمارے ہاں یہ غلط تصور پایا جاتا ہے کہ مشرقی معاشرہ گویا اسلامی معاشرہ ہے اور یہ تصور غلط ہے۔مشرقی معاشرے کے بعض پہلو اسلامی ہیں اور ان میں تہذیب و مذہب دونوں باہم ایک دوسرے کے ساتھ جذب ہو کر ایک ہی شکل اختیار کر گئے ہیں لیکن کثرت سے ایسے پہلو ہیں جو نہ صرف یہ کہ اسلامی نہیں بلکہ مذہبی اقدار معاند اور مخالف ہیں اور مذہبی اقدار سے ٹکرانے والے ہیں اور بت پرست تہذیب کا ورثہ ہیں اس لئے احمدی خواتین کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے رہن سہن اپنے طرز معاشرت کو اسلامی بنا ئیں خواہ وہ مشرق سے تعلق رکھتی ہوں خواہ وہ مغرب سے تعلق رکھتی ہوں۔اب مشرقی معاشرے کا ذکر چل رہا ہے یہ تو بڑا مشکل کام ہے کہ