اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 192
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۱۹۲ خطاب ۲ جون ۱۹۹۰ء بدتمیزی ہو رہی ہو، لڑائیاں ہو رہی ہوں، آواز میں اونچی ہو رہی ہوں۔وہی ماحول ہو ، وہی آسائش کے سامان ہوں یا تکلیف دہ حالات ہوں۔مزاج بدلنے سے گھر جنت بنتا ہے یا جہنم بنتا ہے میں نے ایسے غریب خاندانوں کو بھی دیکھا ہے کہ جن کے پاس ایک کمرہ رہنے کا اور بڑا خاندان لیکن ان کے مزاج میں خدا تعالیٰ نے لطافت عطا فرمائی ، نرمی عطا فرمائی ہے، وہ سوکھی روٹی بھی بڑے محبت و پیار سے مل کر کھاتے ہیں اور ایک دوسرے کے لئے قربانی کے جذبات رکھتے ہیں اور اس چھوٹی سی غریب نہ جگہ میں نہایت معمولی غذا میں بھی وہ ایک جنت محسوس کرتے ہیں۔باہر کی دنیا کی نعمتیں ان کے لئے کشش نہیں رکھتیں۔جب تک وہ اپنے گھر کے ماحول میں واپس نہ جائیں ان کو مزہ نہیں آتا۔ایک ایسے معاملے میں میں نے ایک تجربہ بھی کر کے دیکھا، ایک شخص کو ایک بچے کو جو کسی ایسے ہی گھر کا تھا، ہر قسم کی نعمتیں پہنچائیں ہر قسم کے آرام دیئے مگر اس کا دل نہیں لگتا تھا کہ جو مزہ گھر میں ہے وہ مزہ نہیں ہے۔ماں باپ پیار کرنے والے، بہن بھائی پیار کرنے والے، اب اس چیز کا کوئی بدل ہے دنیا میں ؟ کوئی بدل نہیں۔اور ایسے گھر ہیں جہاں ہر قسم کی نعمتیں موجود ہیں لیکن بدا خلاقی اور بدتمیزی کی وجہ سے وہ گھر جہنم بنے رہتے ہیں کوئی چین نہیں۔آپ کا اپنا اختیار ہے ایک تنگ لاگر میں بھی اگر آپ نے رہنا ہے، تکلیف دہ ماحول ہے، مجھے پتہ ہے بہت ہی مصیبتیں ہیں، بڑی آزمائشیں ہیں۔غلط ماحول کے پلے ہوئے لوگ ، غلط تربیت پائے ہوئے لوگ آپ کے ساتھ رہتے ، آپ کے غسل خانے استعمال کرتے ، اس کچن میں آپ کھانا پکاتی ہیں ، بیچاریاں مجھے پتہ ہے لیکن مزید جہنم بھی آپ اس کو بنا سکتی ہیں۔اگر آپس میں لڑنا شروع کر دیں اور آپس میں بدتمیزیاں شروع کر دیں۔اگر ایک دوسرے کو سہارا دیں ایک دوسرے کو پیار دیں اخلاق سے بات کریں نرمی کا لہجہ اختیار کریں اور نرمی کی تعلیم دیں تو یہی ماحول اگر جنت نہیں تو کم سے کم اتنا نرم ضرور ہو سکتا ہے کہ زندگی گزارنے کے لئے کچھ نہ کچھ سامان تو ہو جائیں گے۔کچھ سہارا تو ہو آپس میں جب رات کو اکٹھے ہو جایا کریں گے تو آپ ایک دوسرے کے ساتھ پیار دیکھیں گے، ایک دوسرے کی آنکھوں میں پیار دیکھیں گے تو سارے دن کی تھکاوٹ دور ہو جائے گی لیکن اس پر مزید اگر وہ بدتمیزیاں ہوں جن کا میں نے ذکر کیا ہے تو پھر کچھ باقی نہیں رہتا۔ایک آفت ایک قیامت آئی رہتی ہے ایسے گھروں میں۔پس یا درکھیں اس دنیا میں گھر جنت بھی بنا سکتے ہیں اور جہنم بھی بنا سکتے ہیں اور گھروں کی جنت اور جہنم دنیا کی آسائشوں سے بہت معمولی تعلق رکھتی ہیں۔اصل جنت اور جہنم ایک دوسرے کے رجحان