اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 193 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 193

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۱۹۳ خطاب ۲ جون ۱۹۹۰ء سے پیدا ہوتی ہے، ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات کے سلیقوں اور آداب سے پیدا ہوتی ہے اور اس سے سارا ماحول بدل جاتا ہے۔اس پہلو سے جب آپ تربیت کریں گی تو آپ کی اولاد کی حفاظت ہوگی میں کوئی بے تعلق بات نہیں کہہ رہا وہی اولا د بچتی ہے اور اسی کی تربیت کی ضمانت دی جاسکتی ہے جس کو گھر میں پیار اور محبت کا اور اعتماد کا ماحول میسر ہو۔ورنہ آپ کے بچے آپ کی کوکھوں سے جنم لے کر غیروں کی گودوں میں جانا شروع ہو جائیں گے اور ان کی گودوں میں پلیں گے آپ واویلا کریں گی اور وہ آپ کے نہیں بن سکیں گے۔بچپن کا وقت ہے جو غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے اس وقت آپ ان کو سنبھالیں اور اس وقت ان کو پیار دیں ، اس وقت ان کو اپنا ئیں اور یہ اسلامی گھر ہے جس کو نمونے کے طور آپ نئی آنے والی بہنوں کو آپ فخر سے دکھا سکتی ہیں، کہہ سکتی ہیں کہ جو تم نے چھوڑا ہے اس سے بہت کچھ زیادہ پالیا اور تمہارے مستقبل کی حفاظت اس ماحول میں ہے۔پس تربیت کے بہت فنون ہیں، بہت سے گر ہیں، بہت سے ایسے امور ہیں جن پر روشنی ڈالی جا سکتی تھی ، ڈالی جاتی ہے اور مختلف خطبات میں مختلف پہلوؤں سے میں ذکر کرتا ہوں ، مگر آج کے مضمون کے لئے میں نے یہی دو تین باتیں چینی تھیں۔میں امید رکھتا ہوں جس طرح دھیان سے آپ سن رہی ہیں، جس طرح خاموشی کے ساتھ آپ متوجہ ہیں اسی طرح دھیان سے ان باتوں کو اب ہمیشہ ذہن نشین رکھیں گی۔اپنے دلوں میں جگہ دیں گی ، اپنے گھروں کی روز مرہ کی زندگی میں ان باتوں کو جاری کر دیں گی اور پیار اور محبت کے وہ ماحول پیدا کریں گی ، جس کے نتیجے میں آپ کی دنیا جنت بن جائے گی اور دوسری دنیا کو جنت عطا کرنے کی اہلیت عطا ہوگی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے اور ہم اس حال میں اس دنیا سے رخصت ہوں کہ کامل یقین کے ساتھ اور کامل دل کے اطمینان کے ساتھ پیچھے چھوڑنے والی نسلوں پر نظریں ڈال رہے ہوں کہ اے خدا! جب تک ہمارا بس تھا جس طرح ہماری پیش گئی ہم نے ان کو اعلیٰ اقدار عطا کئے اور اعلیٰ حالات اور اعلیٰ اخلاق پر قائم رکھا۔اب یہ جواہر تیرے سپرد ہیں جس طرح ہم نے ان کی تربیت کی اب اے خدا! تو ان کی تربیت کرنا اور ہمیں دوسری دنیا میں بھی یہ دکھ نصیب نہ ہو کہ جن اعلیٰ رستوں پر ہم ان کو ڈال کر گئی تھیں ان رستوں سے ان کے قدم ہٹ گئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔اب دُعا میں شامل ہو جائیں۔