اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 190
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ١٩٠ خطاب ۲ جون ۱۹۹۰ء میں بندھا ہوا ہو، جہاں ادب کے تصورات ہوں، جہاں ایثار کے تصورات ہوں، جہاں نرم اور ملائم گوشے ہوں ایک دوسرے کے لئے جہاں یقین ہو کہ اگر ساری دنیا بھی مجھے دھتکار دے تو میری ماں مجھے نہیں دھتکارے گی ، میرا باپ مجھے نہیں دھتکارے گا۔میرا بھائی ایسا ہے جس پر میں مان رکھتی ہوں، میں گری پڑی گلیوں میں بھی اس کو ملی ہوں اٹھائے گا اور مجھے چھاتی سے لگائے گا اور اپنے گھر لے جائے گا۔یہ وہ گھروں کا تصور ہے جو اسلامی تصور ہے۔جو درحقیقت مذہبی تصور ہے اور ہر مذہب میں اگر آج مشترک نہیں ہے تو پہلے مشترک تھا۔کوئی دنیا کا مذہب ایسا نہیں ہے جس نے اس طرح انسانی گھروں کی تخلیق کی کوشش نہ کی ہو۔یہ مغربی معاشرہ جانتا ہے کہ عیسائیت کی تعلیم کی روح بھی یہی ہے کہ ایک دوسرے کے خونی رشتوں کے ساتھ تعلق رکھو، ان کے لئے ایثار پیدا کرو، محبت کے نرم گوشے ان کو مہیا کرو اور پھر ان رشتوں کی تقدیس کرو۔یہ جو قرآن کریم میں اور اسلامی تعلیم میں بار بار حرمت اور محرم کا ذکر آپ پڑھتی ہیں یہ دراصل یہی تقدیس ہے جس کا میں ذکر کر رہا ہوں۔ان ممالک میں بدنصیبی ہے اور بے انتہا بد نصیبی کہ جہاں ایک طرف تعلق کے رشتے ٹوٹے وہاں دوسری طرف غلط تعلق کے رشتے قائم ہونے شروع ہو گئے۔ماں بیٹے اور باپ بیٹی کے درمیان تقدیس کی بجائے غلط رشتے قائم ہونے شروع ہو گئے۔اس چیز کا نام آج کل کی اصطلاح میں Child abuse ہے۔یہ ایک ایسا مضمون ہے جس میں کوئی اور روشنی نہیں ڈال سکتا اس مجلس میں لیکن آپ سب لوگ اس پیغام کو سمجھتے ہیں اور اس ماحول میں رہتے ہوئے واقف ہیں کہ یہ کیا ہورہا ہے اور یہ ایک بھیانک چیز ہے اتنا ظالمانہ اور بہیمانہ رجحان ہے کہ انسان کو ہزار ہا سال کے تہذیبی سفر سے الٹا کر واپس ہیمیت کے ادنی کناروں تک پہنچا دے گا۔ان گڑھوں میں اس قعر مذلت میں انسانیت ڈوب جائے گی جہاں جانوروں کے اندر بھی اس سے زیادہ تقدیس پائی جاتی ہے۔اس لئے یہ باتیں معمولی نہیں ہیں۔آپ کو گھر کی تعمیر کی طرف لازماً توجہ دینی ہوگی اور ایسے گھر کی تعمیر کی طرف جہاں سمجھانے کے نتیجے میں اور عملاً ایثار اور پیار اور محبت کے نتیجے میں آپ کے بچے آپ سے ذہنی طور پر اور قلبی طور پر وابستہ ہو جائیں اور دل میں یقین کرلیں کہ ان اقدار کی بہت بڑی قیمت ہے اور ان کا کوئی بدل نہیں اور یہی وہ پیغام ہے جو آپ کو اپنی دوسری بہنوں تک پہنچانا چاہئے اور ان کی گھروں کی حفاظت کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔اس ضمن میں یا درکھیں کہ آپ کی طرز گفتگو بہت بڑا کردارادا کرے گی۔ایک احمدی خاتون نے