اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 189
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۱۸۹ خطاب ۲ جون ۱۹۹۰ء امانت کی حفاظت نہیں کی تو پھر کچھ عرصے کے بعد وہ بالکل ہاتھ سے نکل جائیں گی۔اسی طرح بچے ہیں، بیٹے ہیں ان کی تربیت کی بھی ضرورت ہے اور بڑے پیار اور محبت کے ساتھ اور مسلسل نگران رہ کر چھوٹی چھوٹی باتوں کا جائزہ لیتے ہوئے چھوٹے چھوٹے رجحانات کو سمجھتے ہوئے ان کو رفتہ رفتہ ساتھ چلانے کی ضرورت ہے اور یہ یقین دلانے کی ضرورت ہے کہ یہ تعلیم جو قرآن نے ہمیں عطا کی ہے یہی وہ تعلیم ہے جو دلوں کو سکینت بخش سکتی ہے۔باقی سارے وقتی یا جز وقتی مشغلے ہیں۔کچھ دیر کی لذتیں ہیں جو اپنے پیچھے دکھ چھوڑ جائیں گے، بے چینیاں چھوڑ جائیں گی ان کو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ ان کے گھروں کی طرف دیکھو ٹیلی ویژن میں جو معاشرہ پیش ہو رہا ہے اس کو نہ دیکھو غور سے فکر کی نظر سے ان کے اپنے ان رسائل کا مطالعہ کر کے دیکھو جن میں ان کی بڑھتی ہوئی بے چینیوں کا ذکر ہے۔گھر ٹوٹ رہے ہیں، اعتماد اُٹھ رہے ہیں ، بچوں کے دلوں میں والدین کی کوئی عزت باقی نہیں رہی ہے اگر ہے تو اتفاقی حادثات کے طور پر ہے۔والدین کچھ عرصے کے بعد بچوں کو دھکا دیتے ہیں کہ جاؤ۔اب تم آزاد پھر و ہمارے اوپر مزید بوجھ نہ بنو بلکہ بعض والدین بچوں سے اپنے گھروں میں رہنے کا کرایہ اور کھانے کی قیمت وصول کرنی شروع کر دیتے ہیں۔اب یہ وہ باتیں ہیں جن کا تصور بھی کسی مشرقی معاشرہ میں خواہ وہ مذہبی ہو یا غیر مذہبی ہو نہیں کیا جاسکتا اور جس کو ہم غیر مذہبی معاشرہ کہتے ہیں اس کی تخلیق بھی دراصل مذہبی پس منظر میں ہوئی تھی۔اس لئے مشرق میں وہ معاشرہ کسی حد تک اب تو ٹوٹ رہا ہے لیکن کسی حد تک ابھی بھی قائم ہے جس کا پس منظر مذہب نے قائم کیا اور جس کے نتیجے میں خاندانوں کو اکٹھار کھنے پر اور بہن بھائی کے رشتوں پر اور باپ بیٹے اور ماں بیٹے اور باپ بیٹی اور ماں بیٹی کے رشتوں پر اور ان کے تقدس پر بہت زور دیا گیا۔آج کی دنیا میں مغرب میں یہ ساری قدریں ٹوٹ بکھر گئی ہیں، گھر بکھر رہے ہیں اور اس کے نتیجے میں بے چینیاں پیدا ہو رہی ہیں۔پس تنقید کے طور پر نہیں سمجھانے کے طور پر ان کے سامنے یہ واقعات لا ئیں اور اپنی بہنوں کو بھی بتا ئیں کہ آپ کی دائگی تسکین اسی معاشرے، اسی تعلیم میں ہے جو آپ کے گھروں کی حفاظت کرتی ہے۔جو تعلیم اور جو معاشرہ گھروں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہتا ہے وہ بنی نوع انسان کو سکینت بخشنے میں لازماً نا کام رہے گا۔آج نہیں تو کل یہ بے چینی اتنی بڑھے گی کہ اسی معاشرے کے خلاف کھلم کھلا ان کی نسلیں بغاوت کریں گی کیونکہ امر واقعہ یہ ہے کہ جو سکون گھر کے ماحول میں ہے ویسا سکون کہیں دنیا میں نصیب نہیں ہوسکتا۔لیکن گھر وہ جو محبت کے رشتوں میں بندھا ہوا ہو، گھر میں جو تقدس کے رشتوں