اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 186
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۱۸۶ خطاب ۲ جون ۱۹۹۰ء ساری زندگی آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف قسم کے سوال کئے گئے ، چھوٹے بھی اور بڑے بھی ، گہرے بھی اور بالکل سطحی بھی ، ایک واقعہ آپ کی زندگی میں ایسا نہیں ملتا کہ آپ سوالوں سے تنگ آگئے ہوں اور کہتے ہوں کہ سوال کرنے والا تو بالکل کوئی ٹیڑھے دماغ کا آدمی ہے، دماغ میں کوئی کیڑا ہے، کوئی پاگل ہے، بڑے حوصلے کے ساتھ جھک کر، شفقت ورحمت کے ساتھ ہر ذہن کو مطمئن کرانے کی کوشش کی۔اس لئے اگر آپ یہ چاہتی ہیں کہ اسلام کی عظیم ذمہ داری جو آپ کے کندھے پر ڈالی گئی ہے آپ اس کو کما حقہ ادا کریں تو ان کی اگلی نسلوں کو سنبھالنے سے پہلے ان کی ان نسلوں کو سنبھالیں جو بڑے شوق اور ولولے کے ساتھ اور بڑی قربانیوں کے ساتھ اسلام میں داخل ہوئی ہیں۔بعض بالکل سفید چادروں کی طرح آئیں ان کو مذہب کا ہی کچھ پتہ نہیں تھا اس لئے آپ بڑے حوصلے اور پیار کے ساتھ ان سے محبت کے تعلقات بڑھا ئیں ان سے پوچھیں کہ ہر بات جو تمہارے ذہن میں خلش پیدا کرتی ہے تشنگی کا احساس پیدا کرتی ہے بے تکلفی سے بیان کیا کرو۔اگر ہم تمہیں نہ سمجھا سکیں تو ہم ان سے پوچھ کر بتائیں گے جو تمہیں سمجھا سکتے ہیں اور اس طرح ان کے ساتھ معاشرتی بہنا پا پیدا کریں، بھائی چارے کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔مگر لجنہ کے معاملے میں بہنا پا کا لفظ میں نے سوچا کہ زیادہ موزوں ہوگا۔یعنی ان کو معاشرتی رنگ میں بہن ہونے کا پیار دیں، بہن ہونے کا ساتھ دیں، بہن ہونے کے طریق پر ان کی ہمجولیاں بنیں۔ساتھ لے کر پھریں اور اس تعلقات کے سلسلے میں محض ان کو سکھائیں نہیں بلکہ ان سے سیکھیں بھی کیونکہ یہ کہنا غلط ہے کہ آپ محض سکھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔امر واقعہ یہ ہے کہ بہت سے امور میں بہت سی احمدی خواتین جو پاکستان کے مختلف دیہات اور معاشروں سے یہاں تشریف لائی ہیں وہ ایک بڑی تعداد ان میں سے سکھانے کی اہلیت رکھتی ہی نہیں بے چاری انہوں نے وہاں رہ کر بھی دین کو پوری طرح سیکھا نہیں تھا۔وہاں بھی وہ اپنے ماحول یا ایسے گاؤں سے تعلق رکھتی تھیں جہاں جماعتی تربیت ابھی پوری طرح ان کو سیراب نہیں کر سکی تھی۔لجنہ کے نظام بنے دوسرے نظام بنے لیکن وہ رفتہ رفتہ سرایت کر رہے ہیں۔پانی خواہ بہتات میں موجود ہو، اگر نالوں اور نالیوں کا انتظام مکمل نہ ہو تو کھیتوں میں ہر جگہ برابر نہیں پہنچا کرتا اور بعض سر زمینیں ایسی ہوتی ہیں جو پانی کو جلدی چوس لیتی ہیں مثلاً ریتلی زمینیں ، وہاں پانی مختلف کھیتوں کے کناروں تک پہنچانا بہت محنت اور جوکھوں کا کام ہے۔میں خود زمیندار رہا