اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 185
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۸۵ خطاب ۲ جون ۱۹۹۰ء مسائل ہیں، معاشرے کا اختلاف ہے، ان کی ساری زندگی ایسے ماحول میں کئی جس میں دنیا کی لذتیں بے تکلفی کے ساتھ جو چیز کرنے کی تمنا دل میں پیدا ہوئی اس کی طرف ہاتھ بڑھا دیا۔جہاں کوئی Taboos نہیں تھے یہ کرو اور وہ نہ کرو اس قسم کی کوئی تعلیم تھی بھی تو یہ اس سے بے پرواہ تھے۔ایک عجیب آزادی کے ماحول میں خود رو پودوں کی طرح یہ بلند ہوئے۔اچانک اسلام کو اختیار کیا جہاں ایک بالکل مختلف ماحول ہے اور اپنے ماحول سے کاٹے گئے۔ان کے بہت سے تقاضے ہیں۔اول یہ کہ ان کو مسلسل اسلام کی تعلیم کا فلسفہ سمجھایا جائے۔محض یہ کہنا کافی نہیں کہ انہوں نے یقین کر لیا محض یہ کہنا کافی نہیں کہ یہ ایمان لے آئے۔یہ جب سوال کرتے ہیں تو بعض احمد یوں کو میں نے دیکھا ہے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جو سوال کرے اس کے اندر ضرور کوئی ایچ بیچ ہے وہ مخلص احمدی نہیں۔بڑی بے قوفوں والی بات ہے اور اس طرح کرتے کرتے بعض مخلصین کو جو سچائی کی جستجو میں سوال کر کے اپنے دل اور اپنے دماغ کی پیاس بجھانا چاہتے ہیں دھکے دے دے کر پرے کر دیتے ہیں۔یہ رجحان نہایت ہی خطرناک اور احمقانہ ہے اور احمدیت کے لئے ایک زہر ثابت ہوگا۔بعض خواتین کے متعلق میں جانتا ہوں کہ مجھے بعض دفعہ اب نام نہیں لینا چاہتا یہ اطلاع کی گئی ہے کہ ویسے تو مخلص ہے احمدی ہے لیکن اعتراضوں کی بڑی عادت ہے ہر بات میں مین میخ نکالتی ہے، یہ کرتی ہے وہ کرتی ہے۔جب میں نے ان سے رابطے کئے اور ان کو سوالات کا موقع دیا تو میں نے محسوس کیا کہ بالکل جائز باتیں تھیں اس بے چاری کو ایک نئے ماحول سے آنے کے بعد بہت سی باتوں میں جستجو ہے، طلب ہے اپنے ذہن کی تشنگی کا احساس باقی ہے۔وہ چاہتی ہے کہ جس مذہب کو اس نے اختیار کیا ہے اس کو اس طرح ذہن نشین کر لے کہ جب غیر بھی اس سے سوال کریں تو مطمئن کرنے والے جوابات دے سکے۔ایسی صورت میں جب وہ سوال کرتی ہے تو پاکستان سے آئی ہوئی خواتین یا مربیان، مبلغین کا یہ ردعمل کہ اوہو اس کے تو دماغ میں کیڑا ہے، یہ ٹھیک نہیں ہے۔یہ اس کے دماغ کا کیٹر ا تو ثابت نہیں کرتا بلکہ کیڑا کہنے والے کے دماغ کا کیٹر ا ضرور ثابت کر دیتا ہے۔تم مربی بن کر دنیا کے لئے نکالے گئے ہو ، تم معلم بنا کر دنیا کے لئے نکالے گئے ہو،اس رسول سے وابستہ ہو جس کے متعلق قرآن کریم نے فرمایا: يُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ وَالْحِكْمَةَ ( الجمعة ٣٠) وہ محض کتاب کی تعلیم نہیں دیتا تھا بلکہ حکمتیں بھی بیان کرتا تھا۔