اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 184
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۱۸۴ خطاب ۲ جون ۱۹۹۰ء تازہ صورت حال یہ ہے کہ بڑی توجہ اور دعاؤں کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے یہ فضل فرمایا ہے کہ بہت سے یورپین بہت سے نہیں لیکن بعض یورپین ممالک میں اب حالات بدل رہے ہیں اور بہتر ہورہے ہیں۔انگلستان میں بہت سے خاندان ایسے نئے احمدیت میں داخل ہوئے ہیں جو خاندان کے طور پر داخل ہوئے ہیں بچے بھی ان کے ساتھ ہیں اور وہ پوری کوشش کرتے ہیں کہ ان بچوں کی اعلیٰ تربیت کر سکیں اور ان میں سے بعض بڑے ہو کر جوان بھی ہوئے ، بعض اس وقت جوانی کے قریب پہنچے ہیں اور ان کے حالات دیکھ کر اور ان کے چہرے دیکھ کر بے حد پیار آتا ہے کہ یہ انگلستان کی سرزمین کی پیداوار احمدی نسل ہے۔وہ لوگ جو اس زمین سے ہمیشہ سے وابستہ چلے آرہے ہیں نہ کہ پاکستان یا ہندوستان سے آکر وہاں آباد ہوئے اس لئے وہاں حالات اب بہتری کی طرف پلٹا کھا رہے ہیں اور جہاں تک جماعت احمدیہ کی کوشش ہے اور دعائیں ہیں انشاء اللہ جو کچھ حاصل ہو چکا ہے اس کو قائم رکھنے کی کوشش کی جائے گی اور آئندہ اور خاندانوں میں بھی یہی رجحان پیدا کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ایک امید کی سرزمین مجھے جرمنی دکھائی دیتی ہے۔ایک لمبے عرصے سے میں جرمن قوم کا بڑی گہری نظر سے مطالعہ کر رہا ہوں اور میں نے یہ دیکھا ہے کہ جرمن قوم میں بعض ایسی خوبیاں ہیں جو اسلام کے حق میں عظیم الشان رنگ میں استعمال کی جاسکتی ہیں اور باقی یورپین سے یہ بعض باتوں میں ممتاز قوم ہے۔ان میں ایک خوبی جو سب سے بڑی خوبی ہے وہ یہ ہے کہ مذہب یا تو اختیار نہیں کریں گے جب اختیار کریں گے تو پورا غور ، سنجیدگی کے ساتھ مطالعہ کے بعد اختیار کریں گے اور پھر فوراً اس مذہب میں ڈھلنے کی کوشش کرتے ہیں۔ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں جیسے ایک پودے کو ایک سرز مین سے اکھاڑ کر دوسری سرزمین میں لگا دیا گیا ہو اور وہ نئی جڑیں نکالتا ہے، نئی زمین کا پانی رس چوستا ہے اور ویسے ہی اطوار اختیار کرتا ہے جیسے اُس زمین کے ماحول کا تقاضا ہو پس اس پہلو سے جرمن قوم یورپین قوموں میں ایک غیر معمولی امتیاز رکھتی ہے۔جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے انگلستان میں بھی کچھ رجحان شروع ہوا ہے لیکن وہ قومی عادت کے نتیجے میں نہیں۔وہ انفرادی کوششوں کے نتیجے میں ہوا ہے۔قومی عادت کے طور پر جتنی سنجیدگی مذہب کے معاملے میں جرمن اختیار کرتے ہیں آج تک میں نے کوئی اور مغربی قوم ایسی نہیں دیکھی ان کو سنبھالنا یہ ہے اصل ذمہ داری جو جماعت پر بحیثیت جماعت عائد ہوتی ہے اور پاکستان سے آنے والے احمدیوں پر بالخصوص عائد ہوتی ہے ان کو سنبھالیں اور ان کے بچوں کو سنبھالیں یہ سب سے اہم ذمہ داری ہے جو لجنہ اماءاللہ کی خصوصیت کے ساتھ ہے۔ان کے بہت سے