اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 158 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 158

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۵۸ خطاب ۱۲ را گست ۱۹۸۹ء میرے دل کا کیا حال ہوتا ہوگا۔افریقہ کے کونے کونے سے، ایسے عظیم الشان صداقت کی گواہیوں کے نغمے بلند ہوئے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا تھا کہ سارے افریقہ کی فضا اُن سے گونج رہی ہے اور کئی ٹیلیویژن Stations نے بھی ان کو پکڑا۔ایک حصہ بچوں کا تھا وہ تو اتنا پیارا تھا ،اتنا دلنشین کہ جب تک آپ سنیں نا آپ اُس کی کیفیت کا اندازہ بھی نہیں کر سکتیں۔اس میں سب سے آگے ، بازی لے جانے والا سیرالیون تھا۔سیرالیون میں احمدی سکول خدا کے فضل سے ۱۲۷ ہیں اور اس کے علاوہ ۲۷ پورے بڑے سکول ہیں یعنی سیکینڈری سکولز۔اُن سکولوں میں سب بچے احمدی نہیں ہیں لیکن احمدی بچے اور عیسائی بچے اور دوسرے بچے ملے جلے ہیں۔اُن سب نے ان نغموں میں شرکت کی اور عیسائی بچوں نے بھی لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ کے نغمے بلند کئے اور ایسا پیارا منظر ہوا کرتا تھاوہ، کہ اُس سے روح تحلیل ہو جاتی تھی اور انسان اپنے تصوروں میں عرش باری تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہو جاتا تھا۔اس موقع پر میں نے ان کا نغمہ پیش کرنے کے لئے خصوصیت سے اس لئے بھی ہدایت کی ہے کہ احمدی عورت کو ایک خاص مقام حاصل ہے جو پاکستانی معاشرہ سے کسی نہ کسی رنگ میں کچھ تعلق تو رکھتا ہے لیکن وہ پاکستانی معاشرہ نہیں ہے ،اس خیال کو دل سے نکال ڈالیں۔ایک اسلامی معاشرہ ہے اور بعض اسلامی حقوق ہیں جو عورت کو دیئے گئے ہیں۔اُن حقوق کو تلف کرنے کے نتیجہ میں نہ صرف احمدی خواتین کے حق تلف ہوں گے بلکہ دنیا بھر میں اسلام کو نقصان پہنچے گا۔اُن میں سے ایک حق یہ بھی ہے کہ جس طرح مرد خدا تعالیٰ کی عظمت سے مرعوب ہو کر ایک خاص روحانی جوش سے نعرے بلند کرتے ہیں۔کیوں عورت کا یہ حق نہیں ہے؟ قرآن کریم تو فرماتا ہے کہ کائنات کی ہر چیز تسبیح و تحمید کر رہی ہے تو ایک عورت ہی ہے بیچاری جو تسبیح و تحمید کے حق سے محروم کی جائے۔جہاں تک پاکیزہ نغموں کا تعلق ہے یہ خواہ مخواہ کی غلط روایات ہمارے اندر قائم ہوئی ہیں کہ عورت کی آواز کوئی مرد سن نہیں سکتا۔عورت کی آواز کیسے نہیں سن سکتا ؟ حضرت عائشہ صدیقہ نے مجمعوں میں لیکچر دیئے ہیں اور تربیت کی ہے مردوں کی اور براہ راست مرد آپ کی آواز کو سنتے تھے۔جو آواز سنی منع ہے وہ بیہودہ نغموں کی آواز ہے جو انسانی ذہن کو غلط رستوں پر ڈالنے والی ہے۔لیکن کتنا تضاد ہے ہمارے معاشرہ میں کہ گھر گھر میں عورتوں کے نغمے سنائے جاتے ہیں ، سنے جاتے ہیں ریکارڈ کئے جاتے ہیں، میوزک کے ساتھ نہایت فحش کلام یا بعض دفعہ غیر بخش کلام بھی غزلوں کی صورت میں عام مروج ہے سارے پاکستان میں بلکہ تمام دنیا میں اُس پر کوئی انگلی نہیں اُٹھاتا لیکن ایک احمدی عورت کی پاکیزہ آواز میں حضرت محمد مصطفی ﷺ کے عشق میں اگر نغمہ بلند ہو تو