اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 150
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطاب خطاب ۱۳ مئی ۱۹۸۹ء کہ فلاں عورت آئی تھی کیونکہ کچھ نہ کچھ تو مجھے لجنہ یو۔کے سے واقفیت ہو ہی چکی ہے اور انکے انداز فکر سے میں اندازہ لگا لیتا ہوں کہ یہ باتیں فلاں نے کی ہوں گی اور یہ باتیں فلاں نے کی ہوں گی اور یہ لجنہ میرے ساتھ سامنے بیٹھی ہے ان کو پتہ ہے کہ کون کون کیا باتیں کر جاتا ہے۔ناجائز بات ہے نامناسب ہے۔خلیفہ وقت کی بیوی کو اس کام کے لئے استعمال ہی نہیں کرنا چاہئے۔اگر یک طرفہ بات وہ کریں اور میں سن لوں اور کسی احمدی بچی یا عورت کے خلاف میرے دل میں ایک داغ لگ جائے کہ وہ ایسی ہے، تو اس کا گناہ آپ پر ہوگا۔جنہوں نے یہ باتیں کی ہیں اس لئے میں ان کو روک دیتا ہوں۔میں کہتا ہوں آپ کے لئے جائز نہیں ہے ایسی باتیں۔آپ مجھ سے یہ باتیں نہ کریں لیکن روکتے روکتے بھی دو تین باتیں نکل ہی آتی ہیں اس لئے میں ان کو بھی نصیحت کر رہا ہوں اور آپ کو بھی سب کو۔میرے لئے آپ انصاف میں سب برابر ہیں۔میری بیوی ہو، بہن ہو یا کوئی رشتہ دار ہو مجھے اس میں کوئی تفریق نہیں ہے ہے غلطی خصوصا معاشرے میں ظلم پھیلانے والی غلطی بہت ہی اہمیت رکھتی ہے اور اس کے نتیجہ میں قومیں ایک دوسرے سے پھٹ جاتی ہیں۔آج اسلام کو ضرورت ہے آپ سب اکٹھے ہو جائیں۔اسلام کا دشمن ہر اس موقع پر اکٹھا ہو جاتا ہے جب اسلام کے خلاف خاص طور پر حملے کا وقت ہوتا ہے۔سلمان رشدی کا واقعہ گزرا قطع نظر اس کے کہ خمینی نے بے وقوفی کی ظلم کیا۔امر واقعہ یہ ہے کہ اس موجودہ قریب تاریخ میں کبھی کسی بات پر یورپ اس طرح اکٹھا نہیں ہوا جس طرح سلمان رشدی کے مقابلے میں ایران کو رسوا اور ذلیل کرنے میں اکٹھا ہوا۔کوئی ایک بڑے سے بڑا واقعہ جو روس میں ہوا ہو یا مشرقی یورپ کے کسی ملک میں یا پولینڈ میں یا کسی اور جگہ ہوا ہو یا اسرائیل میں جو مظالم ہوتے ہیں وہ ان کی نظر میں آئے ہوں، کوئی ایسا واقعہ نہیں ہے جس پر سارے یورپ نے مشترکہ طور پر اپنے سارے سفیر اس ملک سے واپس بلا لئے ہوں لیکن بنیادی طور پر اندر گھسی ہوئی اسلام کی نفرت موجود ہے اور وہ ان لوگوں میں بھی موجود ہے جو د ہر یہ ہیں، روزمرہ کے معاشرہ میں انہیں کوئی بھی اس بات کا فرق نہیں پڑتا کہ عیسائیت کو کوئی کیا کہہ رہا ہے اور کیا نہیں کہہ رہا لیکن جہاں اسلام کے خلاف دشمنی کا کوئی سوال پیدا ہو تو سب اکٹھے ہو جاتے ہیں تو سارا یورپ اسلام کے خلاف حملوں میں اکٹھا ہو جاتا ہے۔آپ ان کو بچانے کے لئے ان تک اسلام کا صحیح پیغام پہنچانے کے لئے اکٹھے نہیں ہو سکتیں۔کیوں ہر وقت فتنوں میں مبتلا رہتی ہیں، کیوں ایک دوسرے کے خلاف باتیں کرتی ہیں،