اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 141
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطاب ۱۴۱ خطاب ۱۳ مئی ۱۹۸۹ء لائے ہیں۔قرآن کریم فرماتا ہے أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ السُّفَهَاءُ وَلَكِنْ لَّا يَعْلَمُونَ (البقرة :١٤) خبر دار یہی بے وقوف ہیں ان کو پتہ نہیں دوسری جگہ فرمایا اولو الباب وہ لوگ ہیں جو خدا کی محبت میں راتوں کو جاگتے ہیں، کروٹیں بدلتے ہیں تو اس کو یاد کرتے ہیں، کھڑے ہوتے ہیں تو یاد کرتے ہیں، بیٹھتے ہیں تو یاد کرتے ہیں، کائنات پر نظر ڈالتے ہیں تو غور کرتے رہتے ہیں کہ خدا نے کیوں پیدا کیا کس لئے پیدا کیا۔یہ اولوالا لباب ہیں یہ صاحب فہم اور صاحب عقل لوگ ہیں۔اس لئے یہ جو میں آپ کو بتا رہا ہوں کہ عقل تقویٰ سے آتی ہے یہ قرآن کریم کے ایک ارشاد کے مطابق بتارہا ہوں۔قرآن کی گواہی اس بات پر ہے اور امر واقعہ یہ ہے کہ حقیقت میں بلا استثناء تمام دنیا پر نظر ڈالیں کچی عقل خدا کے تقویٰ کے بغیر نصیب نہیں ہوتی۔اب آپ دیکھ لیجئے کہ ان قوموں نے کتنی ترقیاں کی ہیں بظا ہر آپ ان کو عقل مند سمجھ رہے ہیں، آپ جانتی ہیں کہ دنیا ایجادات میں ،سائنس میں فلسفوں میں یہ تو میں کتنا آگے بڑھ گئی ہیں لیکن آخری نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہر کچھ عرصے کے بعد اس طرح آپس میں لڑتی ہیں جاہلوں کی طرح کہ حیوانوں کو بھی ظلم میں پیچھے چھوڑ جاتی ہیں۔اس ملک میں جہاں ہم آج بیٹھے ہوئے ہیں اس ملک میں اتنے مظالم ہوئے ہیں کہ آپ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتیں۔وہ تاریخ جو دوسری جنگ کی ہے اگر آپ اس کا مطالعہ کریں تو آپ کا دل بیٹھنے لگے گا۔چند سطروں سے زیادہ آپ ان کتابوں کا مطالعہ نہیں کرسکتیں۔جن میں وہ واقعات محفوظ ہیں کیسے کیسے ظلم یہاں کئے گئے اور پھر جب دوسری قومیں ان پر غالب آئیں تو انہوں نے بھی ایسا بہیمانہ سلوک کیا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے کہ یہ صاحب فہم، صاحب عقل لوگ ہیں۔یہ ان کی ساری محنتوں کا ماحصل اور ثمرہ ہے۔پس حقیقت میں کچی عقل تقویٰ سے آتی ہے اور اس کے بغیر کوئی عقل نہیں ہے۔اس بات کو اچھی طرح یا درکھیں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَا يَسْخَرُ قَوْمُ مِنْ قَوْمٍ عَلَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِنْهُمْ وَلَا نِسَاءِ مِنْ نِسَاءٍ عَسَى أَنْ يَكُنَّ خَيْرًا منهن (الحجرات :۱۲) اس مضمون کا اس بات سے تعلق ہے جو میں بیان کر رہا ہوں۔فرمایا اے لوگو! جو ایمان لائے ہو کوئی قوم کسی دوسری قوم سے تمسخر نہ کرے عَلَى أَنْ يَكُونُوا خَيْرًا مِّنْهُمْ کیونکہ یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اس سے بہتر ہو جائیں جس سے آج تمسخر کیا گیا ہے خدا ان کو بلندی عطا کر دے اور جو تمسخر کرنے والے ہیں ان کی حیثیت کچھ باقی نہ رہے پھر خصوصیت سے فرمایا یہاں باوجود اس کے کہ پہلے بھی عورتیں شامل ہیں لیکن معلوم ہوتا ہے خصوصیت سے عورتوں میں جو یہ رجحان پایا جاتا ہے اس