اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 133 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 133

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۱۳۳ خطاب ۲۳ جولائی ۱۹۸۸ء کہ مجھے توفیق عطا فرما کہ میں تیری اُس نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پر فرمائی وَعَلَى وَالِدَيَّ اور میرے والدین پر فرمائی وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّى إنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ یہ باقی آیت کے حصے کو میں اس وقت چھوڑتا ہوں تبصرے سے کیونکہ اس کی تفصیل لمبی ہو جائے گی۔صرف یہ بتانا مقصود ہے کہ اس تعلق کو قرآن کریم میں ماں باپ سے شروع کیا، ماں کے ذکر پر آگیا۔ماں کے احسان کو یاد کرایا اور پھر اس مضمون کو خدا کی طرف منتقل فرما دیا۔یہ مضمون ہے جو سمجھنے کے لائق ہے۔اس سے آپ کو ماں کا مقام سمجھ آئے گا۔ماں باپ کا اکٹھا کر پھر ماں کو الگ کر لیا کہ اس نے تمہیں اپنے پیٹ میں پالا ہے۔اس سے تمہارا آغاز ہوا ہے۔اور ایک عرصے تک تمہاری تمام تر زندگی کا کلیۂ انحصار تمہاری ماں پر تھا۔پھر جب تم چالیس (۴۰) سال کی عمر کو پہنچ جاتے ہوا گر تم میں شرافت ہے تو نہ صرف ماں کے احسان کو نہ بھولو بلکہ ماں کےاحسان کے نتیجے میں خدا کے احسان تک تمہارا ذہن پہنچنا چاہئے اور خدا کے شکر کی طرف توجہ مائل ہو جانی چاہئے کہ ماں نے تو تمہیں (۳۰) مہینے پرورش کی کم سے کم بالعموم، اور کچھ زیادہ بھی کی ہوگی۔مگر خدا نے جس نے آغا ز آفرینش سے گویا نقشہ بنایا اور تمام کائنات کو ترقی دیتے دیتے اُس مرتبے اور مقام تک پہنچایا جہاں زندگی کی پیدائش ممکن ہوگئی۔پھر زندگی کو کروڑہا کروڑ سال تک درجہ بدرجہ ترقی دیتے ہوئے اُس مقام تک پہنچایا جہاں انسان کی تخلیق مکمل ہوئی اور اسے خدا تعالیٰ نے ٹھیک ٹھاک کر دیا۔فرمایا کہ ماں کے رشتے سے تم خدا تک پہنچ سکتے ہو اور ماں کے معاملات پر غور کر کے ماں سے اپنے تعلقات کو پیش نظر رکھ کر جب تم شکر ادا کرنے والے بندے بنو گے تو تمہارا خدا سے بھی تعلق قائم ہو جائے گا۔اس مضمون کو آنحضور نے اس آیت کے حوالے کے بغیر ایک الگ جگہ یوں بیان فرمایا ہے۔کہ ماں کے پاؤں کے نیچے جنت ہے۔اس کے متعلق بہت سی تفاصیل کی گئی ہیں جو ساری درست ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں اس مضمون کا اس آیت سے گہرا تعلق ہے۔ماں کے توسط سے خدا تک پہنچا جا سکتا ہے۔جو ماں کے حقوق ادا کرنے والا بچہ ہے وہ لازماً خدا کے حقوق بھی ادا کیا کرتا ہے اور جو ماں کے حقوق ادا نہیں کرتا وہ خدا کے حقوق بھی ادا نہیں کرتا چنانچہ یہ دوسرا مضمون بھی خود آنحضور نے بیان فرمایا۔میں اپنے منہ کی باتیں آپ کو نہیں بتا رہا اور دونوں طرفیں آنحضور نے مکمل فرما دیں۔فرمایا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ماں کے پیٹ میں جو رحم ہے جس میں بچہ بنتا ہے وہ رحم عربی میں رحم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔رحم۔یہ تین حروف ہیں۔آنحضرت نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے خبر دی ہے کہ میری سب سے غالب صفت