اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 108
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطاب ۱۰۸ خطاب ۳ را پریل ۱۹۸۸ء ہوئیں ہیں اور یہ بھی بڑی قابل شکر اور قابل تعریف بات ہے۔احمدی خواتین اور غیر احمدی خواتین میں ایک یہ نمایاں فرق ہے۔باہر بھی جذباتی حالات میں نظم و ضبط ٹوٹ جاتے ہیں اور پچھلی دفعہ بھی میں سمجھتا ہوں کہ کیوں ایسا ہوا۔بہت سی ایسی خواتین تھیں جو پاکستان سے تشریف لائی تھیں ان کے دل دکھے ہوئے تھے دیر کے بعد مجھے بھی پردیس میں دیکھا اس کی وجہ سے وہ بھی جذباتی ہو گئیں تھیں اور میں بھی جذباتی تھا لیکن بحیثیت مرد کے مجھ میں ضبط کی طاقت زیادہ تھی اور وہ برداشت نہ کر سکیں اس لئے میں ناراض نہیں تھا میں سمجھتا تھا کہ کیوں ایسا ہوالیکن اس کے باوجود اس سال بھی اگر چہ بہت سی ایسی خواتین یہاں تشریف لائی ہیں۔گزشتہ سال اور اس سال کے درمیان مختلف پاکستان کے علاقے چھوڑ کر آئی ہیں اور ان کے دل میں جذباتی ہنگامے برپا ہیں لیکن چونکہ واضح طور پر ہدایت تھی کہ اس دفعہ آپ نے نظم و ضبط کا نمونہ دکھانا ہے،صبر سے کام لینا ہے اس لئے خدا کے فضل سے آپ کتنی خاموشی کے ساتھ اور ضبط کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہیں۔یہ ایک احمدیت کا خاصہ ہے کہ حکم کی اطاعت کرنا احمدیت نے سکھایا جو دراصل اسلام کی تعلیم کی روح ہے اور ایسے نظارے دوسری دنیا کی مجالس میں آپ کو دکھائی نہیں دے سکتے ہیں پس میں اللہ تعالیٰ کا آج شکر ادا کرتا ہوں کہ اس پہلو سے آپ نے نہایت ہی اعلیٰ نمونہ دکھا کر احمدیت کا سر بلند کیا ہے یا بلند رکھا ہے۔تیسری بات مختصراً میں یہ کہنی چاہتا ہوں کہ اس دفعہ جن جرمن احمدی خواتین سے یا مہمان خواتین سے میری ملاقات ہوئی ہے کچھ کل کی مجلس سوال و جواب میں کچھ آج اس سے میرا یہ تأثر پہلے سے بھی زیادہ گہرا ہو گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جرمن قوم میں بعض ایسی خوبیاں رکھی ہیں کہ وہ اسلام کی خدمت میں ایک عظیم الشان تاریخی کارنامہ سرانجام دے سکتے ہیں اور جرمن خواتین میں جو اخلاص ہے اور جو سچائی ہے اور جو سادگی ہے یہ چیزیں اتنی نمایاں ہیں کہ یورپ کی کسی اور قوم میں آپ کو اس شدت سے دکھائی نہیں دیں گی۔وہ جب فیصلہ کرتی ہیں، سچائی سے کرتی ہیں کوئی دکھاوا نہیں، بعض ایسی ہیں جنہوں نے دس دس پندرہ پندرہ سال اپنے خاوندوں کے ساتھ گزارے اُن کا اپنا مذہب رہا ان کا اپنار ہالیکن خاوند کی خاطر تبدیل نہیں کیا لیکن جب خود دل مان گیا تو احمدی ہوئیں اور پھر خاوند سے بہتر احمدی ہوگئیں اور بسا اوقات مجھے یہ بھی اطلاعیں ملتی ہیں بعض جرمن خواتین کی طرف سے دُعا کی درخواستیں ملتی ہیں کہ ہمارے خاوند کے لئے دُعا کریں کہ وہ اچھا احمدی ہو جائے۔تو اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس قوم میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت سی خوبیاں ہیں جن سے جماعت احمدیہ کو غیر معمولی طور