اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 92
حضرت خلیفہ مسیح الرابع " کے مستورات سے خطابات ۹۲ خطاب یکم اگست ۷ ۱۹۸ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس زمانہ میں اس تعلیم کو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے آئینہ میں دیکھا اور اسی آئینے میں اس کو سمجھا۔فتاویٰ احمد یہ جلد دوم صفحہ ۳۸ پر حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک تحریر درج ہے۔آپ نے فرمایا: میں جب کبھی اتفاقاً ایک ذرہ درشتی اپنی بیوی سے کروں تو میرا بدن کانپ جاتا ہے کہ ایک عورت کو خدا نے صدہا کوس سے لا کر میرے حوالے کیا۔شاید معصیت ہوگی کہ مجھ سے ایسا ہوا۔تب میں ان کو کہتا ہوں کہ تم اپنی نماز میں میرے لئے دُعا کرو کہ اگر یہ عمل خلاف مرضی حق تعالیٰ ہے تو وہ مجھے معاف کر دے اور میں بہت ڈرتا ہوں کہ ہم کسی ظالمانہ حرکت میں مبتلا نہ ہو جائیں۔“ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نمونہ ، آپ کی ساری زندگی کی باتیں ہمارے گھروں میں آج تک زندہ چلی آرہی ہیں۔کوئی دیر کی بات نہیں۔ایسا پاک نمونہ تھا حضرت اماں جان رضی اللہ عنھا کے ساتھ ایسا پاک سلوک تھا۔ایسا محبت و نرمی و شفقت کا سلوک تھا کہ آج کی دنیا میں سب سے بڑا دعویدار بھی جو یہ کہنا چاہتا ہو کہ میں اپنی بیوی سے حسن سلوک کرتا ہوں اس نمونے کا پاسنگ بھی نہیں دکھا سکتا۔اس کے باوجود یہ حال ہے اور اس بات میں بڑی حکمت ہے کہ یہ نہیں کہا کہ میں دعا کرتا ہوں فرمایا ! میں اس بیوی سے درخواست کرتا ہوں جس کو میں سمجھتا ہوں مجھ سے کوئی دکھ پہنچ گیا ہے کہ تم میرے لئے دعا کرو۔ورنہ ہر خاوند اُٹھ کر یہ کہنا شروع کر دے ہم نے مار دیا پھر دعا کر لی ہم نے مارا پھر دعا کر لی۔یہ بہت ہی باریک اور لطیف نکتہ ہے، جس کی طرف متوجہ ہونا چاہئے کہ جس پر ظلم کیا گیا ہے اس کی دعا شامل نہیں ہوگی تو مغفرت نہیں ہوگی۔اس کی بخشش ضروری ہے۔پس یہ اتفاقی منہ سے نکلا ہوا کلام نہیں ہے بلکہ ایک عارف باللہ کا کلام ہے۔اس میں ہمارے لئے بہت ہی بڑے حکمتوں کے راز ہیں۔جب بھی آپ کسی کے خلاف زیادتی کرتی ہیں، اگر وہ انسان ہے تو انسان سے معافی لینا ضروری ہو جاتا ہے۔ورنہ تو بڑا ظلم ہو جائے دنیا میں کہ ظلم انسانوں پر کرے اور معافیاں خدا سے مانگتے رہیں۔خدا سے بھی معافی مانگنی ہوگی کیونکہ اس کی تعلیم کے خلاف ظلم کیا ہے لیکن جس کے خلاف زیادتی ہوئی ہے۔جب تک اس سے معافی نہ مانگی جائے اس وقت تک حقیقت میں معافی کا انسان حقدار قرار نہیں پاتا۔جہاں تک پردے کی تعلیم کا ذکر ہے اور اس پر اعتراضات کا سوال ہے میں چونکہ اس مضمون پر بار ہا روشنی ڈال چکا ہوں اس لئے سر دست اس سے گزر جاتا ہوں۔صرف اتنا بتا نا مناسب ہوگا کہ