اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 76
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات خطاب یکم اگست ۷ ۱۹۸ء حقوق کی جو اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض کئے ہیں۔اور اس کے بعد کچھ بیان نہیں فرمایا ان کے متعلق کہ ان سے کیا سلوک کرو۔قرآن کریم کا یہ خاص اسلوب ہے اور بڑا دلکش اسلوب ہے جس مضمون کو بڑی شان کے ساتھ اُٹھانا چاہتا ہے اور توجہ دلانا چاہتا ہے بعض دفعہ اسے شروع کر کے بغیر اس کوختم کئے بات چھوڑ دیتا ہے۔مراد یہ ہے کہ دیکھو اپنی ان بیبیوں کو دیکھو اور ان کے حقوق کی طرف توجہ کرو۔ان کی عزت اور احترام کا خیال رکھو کیونکہ یہ تو وہ سب کچھ کر رہی ہیں جو تم ان سے توقع رکھ سکتے تھے یہ نہ ہو کہ یہ جو تم سے توقعات رکھتی ہیں وہ پوری نہ کر سکو اس لئے اس آیت کے اس ٹکڑے کو بغیر نتیجہ کے خالی چھوڑ دیا گیا کیونکہ اس کے بہت سے نتائج نکل سکتے ہیں اور یہی قرآن کریم کا اسلوب ہے۔جہاں ایک سے زائد نتائج کی طرف توجہ دلانا مقصود ہو بغیر وہاں نتیجہ نکالے خدا تعالیٰ اس ٹکڑے کو چھوڑ دیتا ہے اور ذہن کو آزادی دیتا ہے کہ جو اچھے نتائج مرتب کر سکتے ہو کرتے چلے جاؤ۔اگلا حصہ ہے وَالَّتِي تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ اگر تمہیں خطرہ ہو یا محسوس کرو کہ تمہارے حقوق ادا کرنے کے باوجود بعض عورتیں فساد اور دنگے پر تلی بیٹھی ہیں اور نشور میں ہر قسم کا فساد اور دنگا شامل ہے یہاں تک کہ ہاتھ اُٹھا بیٹھنا بھی شامل ہے ایسی صورت میں کیا کرو؟ یہ نہیں فرمایا کہ وہ دنگا کرتی ہیں تو تم بھی دنگا شروع کر دو، تمہارا حق قائم ہو گیا ہے۔آگے دیکھئے کہ تین شرطیں ایسی آیت کی ہیں جس کی طرف یورپ کی نظر ہی نہیں جاتی یا مغرب کی نظر ہی نہیں جاتی۔طبعی عقلی نتیجہ اس کا یہ نکلنا چاہئے تھا اور آج بھی دنیا کے قانون میں یہی نکلے گا کہ اگر عورتیں پہل کریں فساد میں اگر وہ باغیانہ رویہ میں پہل اختیار کریں اور مرد پر ہاتھ اُٹھانے سے بھی باز نہ آئیں تو پھر مرد کو بھی چھٹی ہونی چاہئے کہ وہ جو چاہے کرے لیکن قرآن کریم چھٹی نہیں دیتا بلکہ عورت کی نزاکت کے خیال سے اس کی بعض کمزوریوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے فرماتا ہے فَعِظُوهُنَّ تم طاقت ور ہو تم قوام ہو۔اگر قوام کا یہ مطلب ہوتا جو اہل مغرب نے لیا ہے کہ وہ حاکم ہے ڈنڈا چلائے گا تو فَعِظُوهُنَّ کا کون سا موقعہ تھا یہاں۔پھر تو یہ کہنا چاہئے تھا کہ تمہارے قوام ہوتے ہوئے کسی عورت کی جرات کیا تھی کہ تمہارے متعلق باغیانہ طرز اختیار کرے۔اُٹھاؤ ڈنڈا اور مارنا شروع کر دو۔فرمایا نہیں فَعِظُوهُنَّ حوصلہ دکھاؤ تم طاقت ور ہو تمہیں خدا تعالیٰ نے کئی پہلوؤں سے فضیلت بخشی ہے اس لئے حوصلے سے کام لیتے ہوئے پہلے نصیحتیں کرو۔اگر نصیحت کارگر نہ ہو تو پھر دوسرا قدم ہے۔وَاهْجُرُوهُنَّ فِي الْمَضَاجِعِ۔