اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 68 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 68

حضرت خلیفہ مسیح الرابع کےمستورات سے خطابات ۶۸ خطاب ۲۶ جولائی ۱۹۸۶ء سنڈے مارکیٹ بناتی ہیں؟ یہ مجھے بتایا گیا ہے اور بڑی تکلیف کے ساتھ یہ بتایا گیا ہے۔اعتراض کے رنگ میں نہیں بلکہ جس نے مجھے ، ایک سے زائد اطلاعات جو مجھے ملی ہیں ، میں جانتا ہوں اُن کو وہ صاحب دل، متقی عورتیں ہیں، بڑے درد محسوس کر کے انہوں نے بتایا ہے کہ باقی جب تقریریں شروع ہوئی ہیں تو اس طرح انخلاء ہوا ہے عورتوں کا اور اسقدر شور بر پا ہو گیا تھا کہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔وہ ماحول کا تقدس ختم ہو گیا یوں معلوم ہوتا تھا کہ جلسے کیلئے آئی نہیں ہیں اور کچھ چیزیں بیچنے کے شوق میں دوڑی ہیں اور کچھ چیزیں خریدنے کے شوق میں مارکیٹ کی طرف دوڑی ہیں اور کچھ باتیں کرنے کے شوق میں باہر نکل گئی ہیں اور کچھ یہ بتانے کیلئے کہ بس خلیفہ وقت کی تقریرین لی ہے بس اتنا ہی کافی تھا۔اس کے بعد اس جلسے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔بالکل غلط بات ہے! ہر جلسے کی اپنی ایک اہمیت ہوتی ہے اور ہر جلسے کے کچھ تہذیب و تقاضے ہوتے ہیں اور مرد ہو یا عورت انہیں اُن تہذیبی تقاضوں کو لازماً پورا کرنا ہوگا ، اور یہ تقاضے جو یورپ میں بڑے لمبے عرصے کے بعد بڑی محنتیں اُٹھا کر، بڑی تکلیفیں اُٹھا کر خود سکھے ہیں، چودہ سو سال پہلے اسلام نے واضح تعلیم کے طور پر آپ کو سکھا دیئے تھے۔قرآن کریم یہ تعلیم دیتا ہے کہ جب کسی امر جامع میں تم لوگ اکٹھے ہو، آنحضرت علی کے متعلق فرماتا ہے کہ اُن کی اجازت کے بغیر تم نے نہیں ہلنا۔باہر نہیں نکلنا اجازت کے بغیر۔اب ظاہر بات ہے صلى الله کہ یہ تعلیم اس وقت کے لئے خاص تعلیم نہیں تھی۔بہت سی باتوں میں حضرت اقدس محمد مصطفی حلیہ کو اس لئے مخاطب فرمایا گیا ہے کہ آپ کو اسوہ حسنہ قرار دیا گیا ہے۔اس لئے مخاطب نہیں فرمایا گیا کہ صرف آپ کی ذات تک وہ تعلیم محدود ہو جاتی ہے بلکہ بتایا کہ تم اُسوہ بنواور دوسروں کو سکھاؤ اور مومنوں کو ، آپ کے غلاموں کو بھی اسوہ قرار دیا گیا ہے کہ جس طرح آپ سے وہ سیکھیں، اس طرح باقی نسلیں اُس اُسوے کو جاری رکھیں۔اُن میں ایک یہ تھا کہ جب قرآن کریم کی تلاوت ہو تو کامل خاموشی اختیار کرو۔دوسرا یہ کہ جب تم جلسوں میں بیٹھو تو ان کے تقاضے پورے کرو، کامل اطاعت کرو۔جب تمہیں آگے بڑھ کر سمٹنے کی تعلیم دی جائے تو آگے بڑھ کر سمٹ جاؤ۔جب تمہیں گھلا گھلا بیٹھنے کی تعلیم دی جائے تو خاموشی کے ساتھ کھلے کھلے ہو جاؤ۔اور سو فیصدی اطاعت کرو منتظمین کی۔قرآن کی تعلیم ہے کوئی آج کی نئی بنائی ہوئی تعلیم نہیں آپ کو بتارہا اور پھر یہ کہ ایسے جلسوں سے جب تمہیں جانا ہو تو اجازت لے کر جاؤ۔جس کا طریق جماعت میں یہ رائج ہے کہ وہ ہاتھ اُٹھاتے ہیں۔اگر کسی نے فوری طبعی حاجات کے تقاضے