اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 659 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 659

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات خطاب ۲۹ جولائی ۲۰۰۰ء عورت میرے پاس آئی جس نے اپنی دو بچیاں اُٹھا رکھی تھیں۔میں نے اس کو تین کھجور میں دی۔اس نے دونوں بیٹیوں کو ایک ایک کھجور دے دی اور ایک کھجور کھانے کے لئے اپنے منہ میں ڈالنے لگی لیکن یہ کھجور بھی اس کی بیٹیوں نے اس سے مانگ لی۔اس پر اُس نے اس کھجور کے جسے وہ کھانا چاہتی تھی دو حصے کئے اور اُن دونوں بیٹیوں کو دے دیئے۔مجھے اس کی ادا بہت پسند آئی اور میں نے اس کا ذکر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے جنت واجب کر دی یا یہ فرمایا کہ اس کی شفقت کی وجہ سے اُسے آگ کے عذاب سے آزاد کر دیا گیا۔ایک روایت بخاری کتاب الزکوۃ میں حضرت ام عطیہ کی درج ہے وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بے حد محبت کرتی تھیں اور آپ سبھی ان سے محبت کرتے تھے۔ایک مرتبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پاس صدقہ کی ایک بکری بھیجی تو انہوں نے اس کا گوشت حضرت عائشہ کے پاس روانہ کیا۔آپ گھر میں تشریف لائے تو کھانے کے لئے مانگا۔بولیں اور تو کچھ نہیں ہے جو بکری آپ نے ام عطیہ کے پاس بھیجی تھی اس کا گوشت رکھا ہے۔آپ نے فرمایالاؤ کیونکہ وہ مستحق کے پاس پہنچ چکی ہے۔مراد یہ ہے کہ اگر کسی کو صدقہ دیا جائے اور وہ اس میں سے کچھ تحفہ صدقہ دینے والے کے اہل وعیال میں کسی کو یا اس کو بھجوا دے تو صدقہ سمجھ کے اس کو کھانے سے پر ہیز نہیں کرنا چاہئے کیونکہ دے دے۔جس کو مل گیا اس کو مل گیا۔اس کے بعد اس کا حق ہے کہ اس میں سے کچھ تحفہ کسی اور کو دے د۔ایک اور روایت میں حضرت عائشہ صدیقہ بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے ایک بکری ذبح کروائی اور اس کا گوشت غرباء میں تقسیم کیا اور کچھ گھر میں کھانے کے لئے بھی رکھ لیا۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کس قدر گوشت بیچ گیا ؟ عائشہ نے جواب دیا دستی بچی ہے۔یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سارا بچ گیا ہے سوائے دستی کے۔جو صدقہ میں چلا گیا وہی بچا ہے جو قیامت کے دن کام آئے گا۔صرف ایک یہ دستی رہ گئی ہے جو نہیں بچی۔بخاری کتاب الادب میں حضرت ابوذر کی یہ روایت درج ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے مسلمان عورتو! کوئی عورت اپنی پڑوسن سے حقارت آمیز سلوک نہ کرے۔اگر بکری کا ایک پا یہ بھی بھیج سکتی ہو تو اسے بھیج دینا چاہئے۔ایک اور روایت صحیح بخاری کتاب الادب میں حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! میرے دو پڑوسی ہیں۔میں کسے تحفہ بھجواؤں۔آپ نے فرمایا ان دونوں