اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 656
حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات خطاب ۲۹ جولائی ۲۰۰۰ء کوئی حاجت یا ضرورت تو نہیں مگر میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ کسی مومن عورت کے لئے جائز نہیں کہ وہ کسی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ کرے۔سوائے اپنے خاوند کے جس پر چار ماہ دس دن کی جو مدت مقرر ہے۔وہ تو قرآن کریم کا حکم ہے اس کے مطابق تو میں عمل کروں گی۔صحیح بخاری کتاب الجنائز میں ایک روایت حضرت عائشہؓ سے مروی ہے۔حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آخری دفعہ بیمار ہوئے تو آپ کی کسی بیوی نے ایک گرجا کا ذکر کیا جو انہوں نے سرزمین حبشہ میں دیکھا تھا اور جس کا نام ماریہ تھا۔حضرت ام سلمہ اور حضرت ام حبیبہ ملک جبش میں رہ چکی تھیں اُن دونوں نے اس گرجے کی خوبصورتی اور اس کی تصاویر وغیرہ کا ذکر کیا۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جب ان میں سے کوئی نیک آدمی مرجاتا تھا تو اس کی قبر پر عبادت گاہ تعمیر کر لیا کرتے تھے۔پھر اس میں اس طرح کی تصویر میں بناڈالتے تھے۔یہ لوگ اللہ کی بدترین مخلوق ہیں۔ایک لمبی روایت ہے بخاری کتاب الجنائز میں خارجہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ انصار کی ایک عورت ام علی جس نے نبی کریم کی بیعت کی تھی اس نے مجھے بتایا کہ مہاجرین قرعہ کے ذریعہ تقسیم کئے گئے اور عثمان بن مظعون ہمارے حصے میں آئے۔ہم انہیں اپنے گھر لے آئے۔ان کو ایسی بیماری پیش آگئی جس میں ان کی وفات ہوئی۔وفات کے بعد ان کو نسل دے کر کفن دیا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور کہا اے ابو صائب ! یعنی عثمان بن مظعون کی نعش کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔اللہ کی رحمتیں تجھ پر ہوں۔یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہیں فرمایا۔بیوی نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ان کی بیوی نے اپنے مرحوم خاوند کو مخاطب کرتے ہوئے عرض کیا۔اللہ کی حمتیں تجھ پر ہوں میں گواہی دیتی ہوں کہ خدا نے تجھے عزت دی ہے۔یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تجھے کیسے پتہ کہ اللہ نے اُسے عزت دی ہے۔میں نے عرض کیا کہ حضور اُسے بھی نہیں ؟ یعنی جب آپ تشریف لائے تو کیا اس کو بھی عزت نہیں ملی تو پھر کسے اللہ تعالیٰ عزت دیتا ہے۔آپ نے فرمایا بس اس کو جب موت آ گئی تو میں اس کے لئے بھلائی کی امید رکھتا ہوں اور خدا کی قسم میں اللہ کا رسول ہو کر بھی نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔ام علی کہتی ہیں خدا کی قسم اس کے بعد میں کسی کو حتمی طور پر پاکباز قرار نہیں دیتی۔حضرت سمعیہ کا اسلام قبول کرنے والوں میں ساتواں نمبر تھا۔حضرت سمعیہ کو بھی خاندان