اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 653 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 653

۶۵۳ خطاب ۲۹ جولائی ۲۰۰۰ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات طرح کا مسئلہ در پیش تھا۔حضرت بلال ہمارے پاس سے گذرے ہم نے کہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو کہ اگر میں اپنے خاوند اور گود میں پلنے والے یتیم بچوں پر خرچ کروں تو مجھ سے صدقہ ہو جائے گا؟ اور ہم نے کہا کہ ہمارے بارے میں نہ بتانا کہ پوچھنے والی کون ہیں؟ بلال نے آپ سے سوال کیا تو فرمایا وہ دونوں کون ہیں؟ بلال نے کہا زنیب آپ نے فرمایا کونسی زینب ؟ عرض کیا عبداللہ کی بیوی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں اس کے لئے دوہرا اجر ہے۔رشتہ داری کا اجر بھی اور صدقہ کا اجر بھی۔بظاہر تو حضرت بلال نے وعدہ کیا تھا کہ نہیں بتائیں گے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے بعد اس کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا کہ نہ بتا ئیں۔چنانچہ انہوں نے ان کا یہ راز کھول دیا۔(اس موقع پر حضور نے اپنی بیٹی مونا کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اس کو سنبھالو اپنے بچے کو یہ انڈو نیشیا میں بھی یہی شرارتیں کیا کرتا تھا) ابوداؤد کتاب الجنائز میں حضرت ام علی رضی اللہ تعالیٰ عنھا کی یہ روایت درج ہے کہ میں بیمار تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کے لئے میرے ہاں تشریف لائے اور میری تسلی کے لئے فرمایا۔ام علی بیماری کا ایک پہلو خوش کن بھی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ مرض کی وجہ سے ایک مسلمان کی خطائیں اس طرح دور کر دیتا ہے جس طرح آگ سونے اور چاندی کی میل کچیل دور کر دیتی ہے۔پس مرض کے وقت یہ دعا کرنی چاہئے کہ جو بھی ہم نے تکلیف اُٹھائی ہے اللہ اس کے نتیجے میں ہمارے گناہ دھودے۔ایک روایت کتاب الجنائز بخاری میں درج ہے کہ حضرت اسامہ بن زید نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صاحبزادی نے حضور کو پیغام بھجوایا کہ میرا بیٹا مرنے کے قریب ہے آپ ہمارے ہاں تشریف لائیں۔حضور نے جوابا سلام بھجوایا اور فرمایا اللہ ہی کا ہے اس نے لے لیا اور اسی کا ہے جو کچھ اس نے عطا کیا اور ہر ایک شخص کی ایک مقررہ معیاد اس کے ہاں مقرر ہے۔پس چاہئے کہ تم صبر کرو اور ثواب کی امید رکھو۔اس نے دوبارہ پیغام بھجوایا آپ کو قسم دیتے ہوئے کہ آپ ضرور تشریف لائیں۔آپ اُٹھے اور آپ کے ساتھ سعد بن عبادہ ، معاذ بن جبل، ابی بن کعب، زید بن ثابت اور کچھ اور صحابہ رضوان اللہ یھم بھی چلے۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بچہ پیش کیا گیا اس کے سانس اکھڑ رہے تھے۔راوی کہتا تھا یوں محسوس ہوتا تھا کہ ایک پانی کا مشکیزہ ہے یعنی اس کی چھاتی کھلی ہوئی تھی۔سانس کی تنگی سے، سانس کی تکلیف سے تو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔اصل میں یہی وجہ تھی جو حضور نے پہلے انکار کیا تھا کیونکہ آپ کو پتہ تھا کہ آپ یہ تکلیف دہ منظر