اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 61 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 61

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۶۱ خطاب ۲۶ جولائی ۱۹۸۶ء کر اپنی نظروں کو آزادانہ نہ پھرائیں هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا اور صرف یہی نہیں بلکہ ہمیں اپنی اولاد کی طرف سے بھی آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب فرما۔وَ اجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا اور ہمیں متقیوں کا امام بنانا۔اس آیت میں جس عائلی زندگی کا تصور پیش فرمایا گیا ہے اس میں سب سے پہلی بات جوغور کے لائق ہے وہ یہ ہے کہ مومن اپنی کوششوں پر انحصار نہیں کرتا اور جانتا ہے کہ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے توفیق نصیب نہ ہو تو میں اپنی عائلی زندگی کو خوشگوار نہیں بنا سکتا اور یہ حقیقت ہے۔وجہ یہ ہے کہ مثالی جوڑے، ایسے جوڑے کہ جہاں طبعی تقاضوں کے طور پر ایک مرد عورت کی تسکین کا موجب ہو اور ایک عورت مرد کی تسکین کا موجب ہو، بہت ہی شاذ کے طور پر ملتے ہیں۔اسلئے نہیں کہ ہمارے معاشرے میں ماں باپ شادیاں کرتے ہیں اور غلط شادیاں کر دیتے ہیں، اس لئے کہ جہاں معاشرے میں پوری طور پر آزادی حاصل ہے، جہاں اپنی مرضی سے چھان پھٹک کر ، ایک دوسرے کی دیکھ بھال کے بعد شادیاں کی جاتی ہیں ، وہاں بھی یہی صورتِ حال درپیش ہے کیونکہ عائلی زندگی میں A Give اور Give & Take Take کا مضمون فوراً داخل ہو جاتا ہے کچھ لینا پڑتا ہے، کچھ دینا پڑتا ہے، کچھ اپنے مزاج کو چھوڑنا پڑتا ہے، کچھ دوسرے کے مزاج کو قبول کرنا پڑتا ہے۔اس لحاظ سے ابتداء میں Adjustment بہت مشکل ہو جاتی ہیں اور عموماً اس دور میں جبکہ شادیاں Late ہو رہی ہیں اور بھی زیادہ مشکل پیش آجاتی ہے۔پرانے زمانے میں ، یعنی ایسے زمانے کو میں پرانا کہہ رہا ہوں جو میں نے بھی دیکھا ہوا ہے، اُس زمانے میں رواج یہ تھا کہ ماں باپ جلدی بچیوں کی شادی سے فارغ ہو جاتے تھے۔اُس کے نتیجے میں مرد بھی جلدی شادی کرتے تھے۔نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ وہ سادہ سے بچے جو آجکل کے زمانے میں بچے کہلاتے ہیں ، وہ ایک دوسرے کے ساتھ بڑی جلدی Adjust ہو جایا کرتے تھے اور باوجود مزاج کے اختلاف کے، بہت جلدی ایک دوسرے کی خاطر قربانی کرنا، ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھنا سیکھ لیتے تھے اور ایک اچھا معاشرہ وجود میں آتا تھا۔شادیاں تو اتنی جلدی ہوتی تھیں اس زمانے میں کہ مجھے یاد ہے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے مجھے ایک دفعہ بتایا کہ جب میری شادی ہوئی ہے، یعنی حضرت میاں بشیر احمد صاحب کی ، تو کہتے ہیں میری چودہ سال کی عمر تھی اور جب پہلی بچی یعنی میری بیوی (سیدہ آصفہ بیگم صاحبہ ) کی والدہ امتہ السلام بیگم صاحبہ ) پیدا ہوئیں ، تو کہتے ہیں کہ میں اتنا چھوٹا تھا اور اتنا شر مارہا تھا کہ میں چار پائی