اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 638
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۳۸ خطاب کیکم جولائی ۲۰۰۰ء سے لا پرواہ ہونا لعنتی زندگی ہے۔ہر ایک امیر خدا کے حقوق اور انسانوں کے حقوق سے ایسا ہی پوچھا جائے گا جیسا کہ ایک فقیر بلکہ اس سے زیادہ۔پس کیا ہی بد قسمت وہ شخص ہے جو اس مختصر زندگی پر بھروسہ کر کے بنگلی خدا سے منہ پھیر لیتا ہے اور خدا کے حرام کو ایسی بے باکی سے استعمال کرتا ہے گویا وہ حرام اس کے لئے حلال ہے۔“ کشتی نوح روحانی خزائن جلد ۹ اص: ۷۱ ) اب میں آپ کے لئے حضرت اقدس ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا تربیت کا نمونہ پیش کرتا ہوں۔آپ نے تربیت کے بہترین اصول اپنائے اور آگے اپنی اولاد میں جاری کئے۔اگر آپ اپنی اولا د کو اس دنیا میں اس گندے ماحول کے بداثر سے بچانا چاہتی ہیں تو آپ حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی پاک سنت پر عمل کریں اور یقیناً یہ نسخہ بے خطا جائے گا۔بہت ہی کارآمد نسخہ ہے اس کے بعض پہلوؤں پر جس جس نے بھی دنیا میں عمل کیا ہے اس نے اپنے بچوں کی بہترین تربیت کا حق ادا کر دیا ہے۔سب سے پہلی چیز جو حضرت ام المومنین بچوں کو سکھایا کرتیں تھیں وہ جھوٹ سے نفرت تھی۔بچپن ہی سے اس کثرت سے بار بار بچوں کو تلقین کیا کرتیں تھیں کہ بیٹا جھوٹ نہیں بولنا جو مرضی خطا ہو جو مرضی سزا ہو ہرگز جھوٹ کے ذریعے بچنے کی کوشش نہ کرنا، قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ جھوٹ کو شرک قرار دیتا ہے۔پس وہ لوگ جو جھوٹ کا سہارا لے کر سزاؤں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں وہ اللہ کا شرک کرتے ہیں اور جھوٹ کے سہارے شرک کرنا بہت ہی ایک مکروہ شرک ہے اس لئے حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سب سے زیادہ زور جھوٹ سے نفرت پر دیا ہے۔دوسرا یہ ہے کہ اپنے بچوں پر اعتماد کرنا چاہئے ان کو محسوس ہو کہ ہمارے ماں باپ ہم پر اعتماد کرتے ہیں اس سے عزت نفس پیدا ہوتی ہے، خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ ایسے بچوں کی ہمیشہ اچھی تربیت ہوتی ہے جن میں خود اعتمادی پیدا ہو جائے اور یقین ہو کہ ہماری باتوں پر لوگ اعتبار کرتے ہیں۔ہمارے ماں باپ ہم پر اعتبار کرتے ہیں۔دنیا ہم پر کیوں اعتبار نہ کرے۔ایک اور عادت جو حضرت اماں جان رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بچوں میں ڈالی وہ کہنا ماننے کی عادت ہے۔بچپن ہی سے بچوں کو کہنا ماننے کی عادت ڈالنی چاہئے کہ ان سے کہنا چاہئے کہ تم چھوٹی موٹی شرارتیں بے شک کرتے پھرو اللہ تعالیٰ آپ ہی اصلاح فرمادے گا مگر ماں باپ کا کہنا مانو۔اگر