اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 623 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 623

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۶۲۳ خطاب ۳/ جون ۲۰۰۰ء طعن و تشنیع اور عیب چینی سے اجتناب کی تلقین جلسہ سالانہ مستورات نیم سے خطاب فرموده ۳ / جون ۲۰۰۰ء) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے یہ آیت تلات کی۔ا تَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَبَ اَفَلَا تَعْقِلُونَ) (البقرة: ۴۵) کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو جبکہ تم کتاب بھی پڑھتے ہو آخر تم عقل کیوں نہیں کرتے۔آج کے خطاب میں میں کچھ متفرق نصیحتیں کروں گا کچھ تو ایسی ہیں جن کا عورتوں سے خصوصی تعلق ہے اور کچھ ایسی ہیں جو عمومی مسائل سے تعلق رکھتی ہیں۔مردوں کی بعض کمزوریاں بھی اس میں بیان ہوئی ہیں لیکن زیادہ تر خطاب خواتین سے ہے۔اس سلسلہ میں میں سب سے پہلے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی ایک حدیث تمیم داری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی بیان کرتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا دین سراسر خیر خواہی اور خلوص کا نام ہے پس اگر خیر خواہی نہ ہو دوسروں کی اور خیر خواہی پیش نظر نہ ہواور یہ خیر خواہی دل کے خلوص سے نہ اٹھتی ہو تو آپ نے فرمایا اس کے بغیر پھر کچھ بھی دین نہیں رہتا۔پھر فرمایا: اللہ تعالیٰ کی اور اس کی کتاب اور اس کے رسول کی اور مسلمانوں کے آئمہ اور عام مسلمانوں کی خیر خواہی اور اُن سے خلوص کا تعلق رکھنا۔خیر خواہی کس کی کرنی ہے؟ سب سے پہلے یہ اللہ تعالیٰ کی اور اس کی کتاب کی اور اس کے رسول کی اور مسلمانوں کے آئمہ اور عام مسلمانوں کی اور اُن سب سے خلوص کا تعلق رکھنا۔ایک حدیث سنن الدارمی میں حضرت ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضور صلی