اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 590
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۵۹۰ خطاب ۲۲ را گست ۱۹۹۸ء ہے، ان کے لئے اور ہے فکر نہ کرو۔اور بعض بچے جو قناعت سے عاری ہوں وہ جس بچے کے ہاتھ میں چاکلیٹ دیکھتے ہیں اپنے بہن یا بھائی کے ہاتھ میں لپکتے ہیں اس کی طرف اور زبردستی چھینے کی کوشش کرتے ہیں۔بمشکل مجھے انکو علیحدہ کرنا پڑتا ہے کہ صبر کرو تمہیں بھی ملے گا لیکن اس وقت تک منہ بسورے رہتے ہیں اور ماتھے پر بل پڑے رہتے ہیں جب تک ہاتھ میں نہ آجائے۔یہ قناعت کے خلاف ہے۔قناعت کا مضمون تو اگر آپ غور کریں تو ساری زندگی پر پھیلا پڑا ہے۔یہ ختم ہی نہیں ہو سکتا لیکن قرآن سے سیکھیں کہ قناعت کیا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے سمجھیں کہ قناعت کس کو کہتے ہیں۔اس ضمن میں اب میں چند حدیثیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔جو مضمون کی تفصیل بیان کر چکا ہوں اس کی تائید میں اس مضمون کو تقویت دینے کے لئے میں بعض احادیث آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور وہ احادیث بھی ایسی ہیں ان کو سمجھانا بھی پڑے گا ور نہ بعض لوگ اُس سے غلط نتیجہ بھی نکال سکتے ہیں۔بخاری کتاب الزکوۃ میں یہ حدیث درج ہے حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسکین وہ نہیں جو ایک دو لقے یا ایک دو کھجوروں کیلئے در بدر پھرتا ہے۔مسکین وہ ہے جس کے پاس بقدر کفاف گزارہ نہ ہو لیکن اس کے باوجوداس کی غربت سے کوئی واقف نہ ہو سکے۔یہ قناعت کی تعریف ہے جو لفظ مسکین کے تابع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے ہیں۔اب میں نے جب بعض علماء سے کہا کہ قناعت کے متعلق حدیثیں ڈھونڈیں تو کوئی بھی نہیں پیش کر سکے حالا نکہ آپ کو بھی میں سمجھا رہا ہوں کہ جب کسی مضمون کی تلاش ہو تو مضمون پر نظر رکھیں لفظوں پر نظر نہ رکھیں۔وہ مضمون تو لازماً آپ کو قرآن میں بھی ملے گا اور احادیث میں بھی ملے گا۔اگر میں نے لفظ مسکین کہا ہوتا تو فوراً یہ حدیثیں سامنے رکھ دیتے مگر میں نے قناعت کا کہا تھا کہ تو چونکہ دماغ میں لفظ ق ن ع رہا اس لئے یہ حدیث نظر میں نہ آئی لیکن سمجھانے کے بعد فوراً پھر انہوں نے میری مدد کی اور ایسی تمام حدیثیں میرے سامنے رکھ دیں۔فرمایا بقدر کفاف گزارہ نہ ہو لیکن اس کے باوجود اس کی غربت سے کوئی واقف نہ ہو سکے وہ اس پر صدقہ خیرات کرے اور ضرورتمند ہوتے ہوئے بھی لوگوں سے کچھ نہ مانگے یعنی وہی روایت جو میں نے بیان کی تھی وہ اصحاب صفہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کہ بعینہ وہی مضمون بیان فرما رہے ہیں کہ قانع وہ ہے جس کو غربت کی وجہ سے جو اپنا حیا کا پردہ نہ اٹھنے دے اور مسکینوں کی سی زندگی بسر کرے لیکن جو کمائے اس میں سے بھی غیر پر خرچ کرے اور پھر جو بچ رہتا ہے اس پر قانع ہو جائے۔یہ قناعت کی نہایت اعلیٰ تعریف ہے جس سے آپ کو اپنے بچوں اور بچیوں کو