اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 583
حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات پھر فرمایا: ۵۸۳ خطاب ۲۲ را گست ۱۹۹۸ء لِلْفُقَرَاءِ الَّذِيْنَ اُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ داوردج تَعْرِفُهُمْ بِسِيْمُهُمْ ۚ لَا يَسْلُونَ النَّاسَ الْحَافًا وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيْمٌ (البقره: ۲۷۴ ) کہ یہ صدقات لِلْفُقَرَاء - فقراء کے لئے ہیں۔الَّذِيْنَ اُحْصِرُوا فِي سَبِيْلِ اللَّهِ جو خدا کی راہ میں روک دیئے گئے یعنی خدا تعالیٰ کی راہ میں انہوں نے گویا قید کی صعوبت برداشت کی محض اللہ کی خاطر ان کو ایک جگہ محصور کر دیا گیا۔لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ۔وہ زمین میں چلنے پھرنے اور گھومنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔اب یہاں فِي سَبِيلِ اللهِ روک دیا گیا میں ایک ان کے نفس کی خواہش بھی شامل ہے۔آنحضرت کے زمانے میں بہت سے اصحاب الصفہ ایسے تھے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب کی خواہش میں اس لئے کہ جب بھی حضور اکرم باہر تشریف لائیں وہ انہیں دیکھ سکیں۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں آپ کے قرب کی خواہش میں انہوں نے گویا خود اپنے اوپر سفر حرام کرلیا تھا اور بعض دفعہ ان کو بھوک ستاتی تھی تو باہر جا کر لکڑیاں کاٹ کر لے آیا کرتے تھے یعنی قناعت کا مضمون ہر پہلوان پر چسپاں ہورہا تھا۔تھوڑے سے رزق پر گزارا کر رہے تھے جو لکڑیاں کاٹنے کے نتیجہ میں محض بھوک مٹانے کے لئے کافی ہوتا تھا اور اس بات پر قناعت تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جو کچھ فرما ئیں وہی ہمارے لئے کافی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ دیکھنا ہی ہمارے لئے کافی ہے۔پس دیکھئے قرآن کریم تو قناعت کے مضامین سے بھرا پڑا ہے اور کثرت سے ایسی احادیث ملتی ہیں جو ان آیات کی تشریح میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کے اسوہ کو پیش کرتی ہیں۔فرمایا۔يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّف۔وہ اتنا بچتے ہیں اپنے فقر کو ظاہر کرنے سے کہ ان کی اس غیرت کو کہ انہوں نے اپنے او پر پردہ سا ڈال رکھا ہے غیر سمجھتا ہے کہ یہ امیر لوگ ہیں ان کو ضرورت ہی کوئی نہیں۔اب یہ بھی قناعت کا ایک بہت ہی بار یک مضمون ہے جس کو قرآن کریم نے تعفف کے ذریعے ظاہر فرمایا۔وہ بچتے ہیں لوگوں پر اپنے غربت کے اظہار سے اور حیا کرتے ہیں اس بات سے کہ لوگوں پر ان کی غربت ظاہر ہو۔