اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 565
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۵۶۵ خطاب یکم را گست ۱۹۹۸ء دنیا بھر میں مستورات کی میدان تبلیغ میں خدمت خلق کا تذکرہ (جلسہ سالانہ مستورات برطانیہ سے خطاب فرمودہ یکم اگست ۱۹۹۸ء) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیت کی تلاوت فرمائی: كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللهِ وَلَوْا مَنَ أَهْلُ الْكِتَبِ لَكَانَ خَيْرًا لَّهُمْ مِنْهُمُ الْمُؤْمِنُونَ وَاَكْثَرُهُمُ الْفَسِقُونَ (آل عمران: ۱۱۱) اس آیت کو آج کے خطاب کا عنوان بنایا ہے۔مستورات کے متعلق بہت سی غلط فہمیاں ہیں کہ جہاں تک اسلام کا تعلق ہے مستورات کے حقوق ادا نہیں کرتا یا مستورات کو سوسائٹی کا ایک بریکار حصہ بنایا گیا ہے۔اس سلسلہ میں مختلف گزشتہ خطبات میں بڑی تفصیل سے روشنی ڈال چکا ہوں۔اب اس مضمون کو یہاں دہرانے کا ارادہ نہیں۔آج میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ احمدی مستورات اُن مستورات سے بالکل مختلف ہیں جن کا تصور مغرب نے باندھ رکھا ہے۔وہ ہر میدان میں مردوں سے سبقت لے جانے کی کوشش شروع کر چکی ہیں اور بہت سے میدانوں میں سبقت لے جا بھی چکی ہے۔خاص طور پر آج میرا موضوع تبلیغ کے میدان میں خدمت خلق کا موضوع ہے۔خصوصاً وہ خواتین جو تبلیغ کے دوران پیش آنے والی مہمان نوازی کے تقاضے پورے کرتی ہیں۔یہ بہت وسیع مضمون ہے۔جہاں تک مجھے توفیق ملی ہے میں نے کوشش کر کے اسے چھوٹا بنانے اور سمیٹنے کی بار بار کوشش کر چکا ہوں لیکن ابھی بھی یہ مضمون پھیلا ہوا ہے مگر چونکہ اس جلسہ میں میرا ارادہ یہی ہے کہ خطاب