اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 516
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۵۱۶ خطاب ۲۶ جولائی ۱۹۹۷ء اب عائشہ کا نمونہ اتنا اچھا ہے کہ اس کو دیکھ کر اور عائشا ئیں بھی بننے لگ گئی ہیں وہاں پر ان کی ایک سہیلی مجھے ملنے آئی تھی، اس پر بھی احمدیت کا رنگ چڑھ گیا ہے۔وہ کہہ رہی تھی ، مجھے تو بہت اچھی لگتی ہے اور اس طرح نئی نسل میں خالصتاد ہر یہ اور دنیا پرستوں میں سے نکل نکل کر یہ بچیاں آگے آرہی ہیں اور اس کا سہرا احمدی خواتین کے سر ہے جن کے پاک نمونوں کو دیکھ کر انہوں نے مذہب کے متعلق اچھی رائے قائم کی۔ناروے کے بعد سویڈن کی باری ہے جہاں جب سے مجھے ہوش ہے یاد ہے، ایک ہی نام سنا کرتے تھے ڈاکٹر قامتہ اور اب بھی ڈاکٹر قانتہ صاحبہ اللہ کے فضل سے اسی طرح مصروف عمل ہیں۔( آگئی ہیں؟ کہاں ہیں ڈاکٹر قائمتہ ؟ ڈاکٹر قامتہ وہاں انگریزی Section میں بیٹھی ہوئی ہیں )۔اب اللہ کے فضل سے بہت سی قامتائیں پیدا ہو چکی ہیں اور Sweden میں کثرت سے کام کاج شروع ہو چکا ہے احمدی خواتین بیدار ہورہی ہیں۔پس ان کا صبرا چھے رنگ دکھا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے سویڈن میں بھی اب گہما گہمی ہے۔ڈنمارک کے متعلق میں اتنا کہہ سکتا ہوں کہ وہاں بھی ایک لہر بچیوں میں اٹھی تو ہے، اب دیکھیں کہاں تک پہنچتی ہے ،مگر میں نے محسوس کیا ہے کہ بچیوں میں ایک احساس بیدار ہورہا ہے کہ ہمیں بھی اس شمالی علاقے سے پیچھے نہیں رہنا چاہئے اور احمدیت میں آگے بڑھنا چاہئے یہ مختصر ذکر ناروے، سویڈن اور ڈنمارک کا تھا اور جرمنی کا پہلے میں کر چکا ہوں۔اب میں پاکستان سے متعلق کچھ باتیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔پاکستان میں ،خدا تعالیٰ کے فضل سے ایک بہت لمبے عرصے تک لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی صدر رہی اور مرکز یہ انتظام ایسا تھا جو ساری دنیا پر حاوی تھا۔اب پاکستان صرف پاکستان کے لئے خاص ہو چکا ہے۔وہاں کی لجنہ اب صرف لجنہ پاکستان ہے۔مگر لجنہ کے جو پہلے کام ہوا کرتے تھے، اگر چہ تنظیم کے لحاظ سے ٹھوس تھے جلسے اور کاروائیاں ان سے ان کے دفتر کی رپورٹیں بھری پڑی ہوں گی مگر کبھی یہ واقعہ نہیں ہوا کہ احمدی خواتین میدان عمل میں نکل کھڑی ہوں اور کثرت کے ساتھ ، ایک روحانی انقلاب برپا کر دیں۔اس وقت ، خدا کے فضل سے، پاکستان کی احمدی خواتین کی وہ حالت نہیں جو پہلے کبھی ہوا کرتی تھی۔ہر میدان میں آگے آگے ہیں، ہر بات کا جواب دیتی ہیں اور مثبت جواب دیتی ہیں۔سب سے پہلے میں مختصر ار بوہ کا ذکر کروں گا کیونکہ اس کے بغیر یہ Report مکمل نہیں