اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 517
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۵۱۷ خطاب ۲۶ جولائی ۱۹۹۷ء ہوگی۔ہماری عزیزہ آپا طاہرہ صدیقہ صاحبہ نے جو کام یہاں دیکھے وہ سارے وہاں بھی شروع کئے۔Research Team یہاں دیکھی ، وہاں بھی قائم کی، ہومیو پیتھک کا نظام یہاں دیکھا وہاں بھی قائم کیا ، اشاعت اسلام کے لئے اردگرد کے دیہات میں پھیل گئیں اور خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ لجنہ اماءاللہ نے بعض ایسے دیہات احمدی بنائے جن میں کبھی مرد بھی نہیں گھستے تھے ،مگر بڑی حکمت کے ساتھ ، پہلے خدمت کی ، بچوں کو قرآن پڑھائے ، یہاں تک کہ خواتین کے دل جیت لئے اور بہت سی جگہ یہ بھی ہوا کہ مولوی نے شور مچایا مردوں نے اعتراض کیا، خواتین اٹھ کھڑی ہوئیں۔غیر احمدی خواتین،انہوں نے کہا یہ بچیاں تو ہمارے گاؤں میں آئیں گی اور ہمیں نیکیاں سکھائیں گی ہم نے جو زور لگانا لگا لو لیکن ان کو نہیں ہم نکال سکتیں۔بہت حکمت کے ساتھ وہ سارے اچھے کام جو انگلستان میں ہوتے انہوں نے دیکھے، وہ ربوہ میں دہرائے اور خدا کے فضل سے ربوہ کے چاروں طرف احمدیت کا اک رعب لجنہ اماءاللہ کی خواتین کی وجہ سے پیدا ہو چکا ہے۔اس تفصیل میں میں اس لئے نہیں جاتا کہ یہ مناسب نہیں ہے کیونکہ مولوی کان لگائے بیٹھے ہیں اور خاص طور پر ربوہ کے لئے اگر میں نام لے کے بتاؤں کہ کس کس گاؤں میں کیا ہورہا ہے تو ان کی جان نکل جائے گی اور وہ پھر جوابی کاروائی اس حد تک ضرور کریں گے کہ ہماری ربوہ کی خواتین کے لئے وقتیں پیدا کرسکیں۔ان کی کامیابی کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔احمدی عورتیں بڑے بڑے مولویوں پر لازماً غالب آئیں گی۔مگر ایذا رسانی کا سوال ہے اس لئے میں احمدی بچیوں کی عزت اور احترام کی خاطر ، مولوی کو یہ موقع نہیں دینا چاہتا کہ وہ ان کی ایذارسانی کا موجب بنے۔مرکز میں کام کرنے والیوں میں ہماری عزیزہ امتہ القدوس جو صاحبزادہ مرزا منصور احمد صاحب کی بیٹی اور ہماری آپا ناصرہ کی بچی ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام پاکستان میں ان سارے کاموں کو فروغ دینے میں بہت کوشش کر رہی ہیں۔لاہور کا ذکر بھی ضروری ہے، اگر چہ سارے پاکستان کے شہروں کا ذکر نہیں ہو سکے گا مگر لاہور کا ذکر اس لئے ضروری ہے کہ لاہور نے تمام پاکستان میں ایک غیر معمولی طور پر نمایاں خدمت سر انجام دی ہے اور اس کا سہرا ہماری مرحومہ آپا بشری کے سر بھی ہے۔بڑی خاموش خدمت کرنے والی تھیں آخری سانس تک آپ نے خدمت کی ہے۔مجھے خط لکھا کرتی تھیں۔خدا کے لئے میرے لئے دعا کریں کہ میری جان اس کام میں نکلے اور اسی کام میں ان کی جان نکلی۔بیماریوں نے ستایا ہوا تھا،