اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 499
حضرت خلیفہ صیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۹۹ خطاب ۲۴ را گست ۱۹۹۶ء ضروری ہے۔الحمد لله رب العالمین میں ”حمد“ کا مطلب ہے۔ایک مطلب تو ہے سب تعریف اللہ کے لئے ہے اور ایک احمد کا مضمون اظہار تشکر کے لئے سب سے اعلیٰ مضمون ہے۔جب آپ بے حد خدا تعالیٰ کے کسی احسان کے نیچے دیتی ہیں تو بے اختیار دل سے نکلتا ہے الحمد للہ رب العالمین وہاں تعریف مراد نہیں ہوتی۔وہاں اظہار تشکر ہے۔کہ میں خدا کا شکر کیسے ادا کروں۔ہر تعریف اسی کی ہے میرے بیان کرنے سے کچھ بڑھ تو نہیں جائے گا مگر میں نے اب محسوس کیا ہے کہ سب تعریف اللہ ہی کے لئے ہے۔آپ کا بچہ گم جائے اور اچانک ظاہر ہو جائے ، اچانک مل جائے تو پھر آپ کے دل سے بے اختیار نکلے گا الحمد لله رب العالمین لیکن اللہ گم جائے ،اس کی آپ کو کوئی پروا نہیں ہوتی حالانکہ آپ خدا سے گم جائیں تو اللہ کو پرواہ ہوتی ہے۔یہ مضمون بھی ایسا ہے کہ اس پر آپ غور کریں تو خدا کی محبت ایک حقیقت بن کر آپ کے دل میں داخل ہو سکتی ہے اور وہاں پروان چڑھتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مضمون کو یوں بیان فرمایا کہ دیکھو ایک شخص جو صحرا میں، یتے ہوئے صحرا میں ایک ایسی اونٹنی کو درخت سے باندھ کر یا گھٹنے باندھ کر بٹھا دے اور درخت کے سائے تلے آرام کرے۔جس اونٹنی پر اُس کا کھانا پینا اس کا سارا ساز وسامان لدا ہوا ہو۔درخت کے سائے تلے آرام کر رہا ہو اور یہ اونٹی کسی طرح وہ رسی تڑوا کر بھاگ جائے اور اس کی نظر سے غائب ہو جائے۔آنحضور فرماتے ہیں کہ وہ شخص سوچ سکتا ہے کہ اُسے کیسی تکلیف ہوگی۔کیسی وہ اونٹنی اس وقت اس کو پیاری لگے گی۔کتنا دل چاہے گا کہ کاش نظر مجھے وہ دوبارہ آجائے۔فرمایا وہ؟ بندے خدا کے جو خدا سے دور چلے جاتے ہیں۔جب وہ واپس خدا کی طرف آتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کو اس سے بھی زیادہ لطف آتا ہے جتنا کھوئی ہوئی اونٹنی والے کو اونٹنی حاصل کرنے کے وقت لطف آتا ہے۔فرمایا وہ تڑپتا ہوا بے قرار نظروں سے اوپر کو دیکھ رہا ہو اور شام کے وقت دور سے وہی اونٹنی اس کی طرف آتی ہوئی دکھائی دے تو سوچو کہ اس کا دل کس قدر لذت سے بھر جائے گا۔کتنا گہر ا سکون حاصل کرے گا۔فرمایا اللہ کو تم سے ایسی ہی محبت ہے۔پس خدا تو اتنا پیار کرے کہ جیسے ایک انسان کا سب کچھ کھویا گیا ہو اور اسے واپس مل جائے۔اس سے بھی بڑھ کر اپنے کھوئے ہوئے بندے کے واپس آنے پر اس کا دل اس کی محبت سے لبریز ہو جائے اور بندے کی یہ حالت ہو کہ ساری عمر خدا گنوائے رکھا اور پتا بھی نہیں کہ کوئی چیز گم گئی ہے۔اس طرح تو محبت کے رشتے نہیں بنا کرتے۔ماں کی مثالیں میں دے رہا ہوں کیونکہ عورتیں ماں کی مثالیں زیادہ بجھتی ہیں۔ایک گم شدہ بچہ جب واپس آتا ہے تو دیکھیں کیسے کیسے بے اختیار دل