اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 489
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۴۸۹ خطاب ۲۴ را گست ۱۹۹۶ء جن بھوتوں کی کہانیوں سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں۔جن بھوتوں کی کہانیاں تو فرضی ہیں اور آپ جانتے ہیں اور سب جانتے ہیں کہ محض انسانی فکر کی ایک تخلیق ہے۔مگر غیب جس کی طرف خدا بلا رہا ہے جس پر ایمان لانے کی خدا دعوت دے رہا ہے وہ اتنی قطعی حقیقت ہے کہ اس کے مقابل پر وجود کی کوئی حقیقت دکھائی نہیں دیتی۔خدا کے سوا ہر چیز غیب ہے اور خدا نہ ہو تو غیب کلیہ غائب ہو جائے۔پس غیب کا وجود میں آنا اور وجود میں رہنا جب ہم ماضی پر نظر ڈالیں تو ہمیں دکھائی دینے لگتا ہے۔جب ہم نہیں تھے تب بھی تھا۔جب جاندار نہیں تھے تب بھی کوئی وجود تھا۔جب مادہ نہیں تھا تب بھی کوئی وجود تھا۔تو غیب اللہ مستقبل پر سے بھرا پڑا ہے۔اللہ کے سوا غیب کچھ نہیں اور غیب ہے تو خدا ضرور ہے۔اور جب ہم ماضی اور نگاہ ڈالیں تو یہ حقیقت ہم پر خوب روشن ہو جاتی ہے کہ غیب پر ایمان لانا ہمارے لئے لازم ہے۔اور ایک قطعی حقیقت ہے۔ایک سائنٹفک حقیقت ہے کہ غیب کی حقیقت کو سمجھیں گے تو پھر خدا کی حقیقت کا احساس، اس کا شعور دلوں میں پیدا ہو گا۔غیب کے حوالے کے بغیر خدا کا تصور نہیں باندھا جاسکتا۔ایک دفعہ پھر آپ غور کریں۔جب آپ نہیں تھیں یعنی میں خواتین سے مخاطب ہوں اس لئے میں خواتین کا حوالہ دے رہا ہوں جب آپ نہیں تھیں تو کل کائنات نہیں تھی۔کبھی آپ نے غور کیا اس بات پر ؟ اگر آپ نہ ہوں گی تو گویا کل کائنات غائب ہو جائے گی۔باقی ہوں یا نہ ہوں اس سے آپ کو کیا غرض ہے۔وہ بچے جو مجھ سے ملنے کے لئے آتے ہیں، کئی دفعہ میں اُن سے پوچھتا ہوں، یہ غیب کا تصور ان کے دماغ میں جاگزیں کرنے کی خاطر کہ تم جب پیدا نہیں ہوئے تھے یا پیدا نہیں ہوئی تھیں تو کیا تھا پیچھے؟ تو حیران ہو جاتے ہیں۔کہتے ہیں کچھ بھی نہیں تھا۔اور امر واقعہ یہ ہے کہ کچھ بھی نہیں ہوتا۔یعنی اب تم نے آنکھیں کھول لی ہیں تو تمہیں پتا تھا۔کہ تھا سب کچھ۔یہ جہان ہمیں پتہ تھا۔لیکن اگر ہم نہ ہوتے تو ہمیں کچھ نہ پتا ہوتا۔تو ہمارے ہونے نے ہمیں بتایا کہ غیب ہے اور ہم نہ بھی ہوں تو غیب ہے۔غیب کا وجود ہمارے ہونے سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔وہ اپنی ذات میں قائم ہے۔تو قرآن میں جس کو غیب کہا جاتا ہے اسکا مطلب عدم نہیں ہے بلکہ نظروں سے غائب ہے تصور سے باہر ہے۔پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم اپنی تھوڑی سی زندگی کے اوپر ساری کائنات کو کس طرح منحصر کر دو گے تم تو آج آئے اور کل گزر گئے اور تمہارے آنے کے بعد ایک عالم وجود میں آیا۔تمہارے جانے کے بعد وہ عالم غائب ہو گیا۔لیکن اس عرصے میں جب تم غور کرو گے تو پھر تمہیں پتا چلے گا کہ تمہارا ہونا تو ایک بہت ہی معمولی ایک نقطے سے بھی کم حیثیت رکھتا ہے۔جو نہیں ہے وہ بہت وسیع ہے اور بہت عظیم ہے ، ساری