اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 452
حضرت خلیفہ اس الرابع کے مستورات سے خطابات ۴۵۲ خطاب ۸ ستمبر ۱۹۹۵ء یہ 100 سال پہلے کی تحریر ہے۔اس وقت جو بات یورپ کے بعض حصوں سے ظاہر تھی اب تمام دنیا کے ہر حصے سے ظاہر ہو چکی ہے کیونکہ یہ بیماری اب یورپ کا خاصا نہیں رہی بلکہ تمام دنیا میں یکساں پھیل چکی ہے۔آپ علیہ السلام فرماتے ہیں۔ہاں جب یہ لوگ در حقیقت پاک دل ہو جائیں گے اور ان کی امارگی جاتی رہے گی ( امارگی سے مراد ہے دل کے نفس کے اندر جو ہر وقت بدی کی طرف جھکنے کا رجحان پایا جاتا ہے یا نفس ہمیشہ انسان کو حکم دیتا رہتا ہے کہ یہ کام کرو، وہ کام کر و فر مایا ) جب یہ امارگی جاتی رہے گی اور شیطانی روح نکل جائے گی اور ان کی آنکھوں میں خدا کا خوف پیدا ہو جائے گا اور ان کے دلوں میں خدا کی عظمت قائم ہو جائے گی اور وہ ایک پاک تبدیلی کرلیں گے اور خداترسی کا ایک پاک چولہ پہن لیں گے تب جو چاہیں سوکریں کیونکہ اس وقت وہ خدا کے ہاتھ کے خوجے ہوں گے گویا وہ مرد نہیں ہیں اور ان کی آنکھیں اس بات سے اندھی ہونگی کہ نامحرم عورت کو بدنظری سے دیکھ سکیں یا ایسا بد خیال دل میں لاسکیں مگر اے پیارو، اب خدا تمہارے دلوں میں الہام کرے ابھی وہ وقت نہیں کہ تم ایسا کرو۔“ (روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحه ۱۷۴) پھر اسلامی پردے سے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔اسلامی پردہ سے یہ ہرگز مراد نہیں ہے کہ عورت جیل خانے کی طرح بند رکھی جاوے۔قرآن شریف کا مطلب یہ ہے کہ عورتیں ستر کریں وہ غیر مردکونہ دیکھیں۔جن عورتوں کو باہر جانے کی ضرورت تمدنی امور کے لئے پڑے ان کو گھر سے باہر نکلنا منع نہیں ہے وہ بے شک جائیں لیکن نظر کا پردہ ضروری ہے۔“ ( ملفوظات جلد اول صفحہ ۲۹۸ جدید ایڈیشن) پس یہ احادیث اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی روشنی میں میں نے کوشش کی ہے کہ رسمی اصطلاحوں میں پڑے بغیر یہ بحث چھیڑے بغیر کہ پردہ چہرے کے کتنے حصے کا ہے