اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 443 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 443

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۴۳ خطاب ۸ ستمبر ۱۹۹۵ء عورت دونوں سے برابر باندھا ہے فرماتے ہیں !بے حیائی اپنے ہر بے حیا کو بدنما بنادیتی ہے اور شرم و حیاء ہر حیا دار کو حسن سیرت بخشتا ہے اور اسے خوبصورت بنادیتا ہے۔پس ہر عورت کے دل کی جو فطری کمزوری یا فطری طاقت ہے کہ وہ اپنے آپ کو حسین دیکھنا چاہتی ہے اور فی الحقیقت حسین بنانا چاہتی ہے اس کے حسن کا راز اس کی حیاء میں ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول گہرائی تک سچا ہے۔اپنے حیاء کو قائم رکھیں اللہ آپ کے حسن کو قائم رکھے گا۔قرآن کریم میں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا واقعہ بیان ہوا ہے۔وہاں بھی حیاء کا مضمون ایک خاص انداز میں بیان فرمایا گیا ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام جب در بدر ہو کر ا پنا وطن چھوڑ کر ایک دوسرے وطن میں پہنچے تو وہاں مسافر کے طور پر ابھی نئے نئے آئے تھے، ایک درخت کے سائے میں بیٹھے تھے ، آپ نے دیکھا کہ وہاں کچھ گڈریے اپنے مویشیوں کو پانی پلا رہے ہیں اور ان کے مویشی کثرت کے ساتھ تھے کیونکہ بعض Water Holes کہلاتے ہیں یعنی پانی پینے کی جگہیں جہاں جانور کافی دور دور کے علاقے سے لائے جاتے ہیں۔تو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا اس جگہ کا انتخاب بھی اس وجہ سے تھا کہ یہاں لوگ آئیں گے تو کوئی واقفیت پیدا ہوگی، کوئی سر چھپانے کی جگہ ملے گی اور کثرت سے وہاں گڈریے آئے ہوئے تھے۔وہاں دو عورتیں بھی تھیں۔جو ایک طرف کھڑی تھیں یا دو لڑکیاں تھیں جو ایک طرف کھڑی تھیں ان کی بھی بکریاں وغیرہ تھیں جنہیں وہ پانی پلانا چاہتی تھیں لیکن کوئی ان کی طرف توجہ نہیں دے رہا تھا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام چونکہ غیر معمولی طور پر طاقتور اور جوان مرد تھے۔آپ علیہ السلام نے ان سے پوچھا کہ کیا بات ہے تم ایک طرف کیوں کھڑی ہو انہوں نے کہا کہ جب تک یہ سارے مرد پانی پلا کر چلے نہ جائیں ہماری باری نہیں آئے گی۔آپ علیہ السلام نے کہا نہیں میں پلاتا ہوں۔چنانچہ ان کی بھیڑ بکریاں جو بھی تھیں یا جتنی بھی تھیں انہیں لے کر انہوں نے مردوں کو ہٹا کر پانی پلایا اور واپس جا کر خاموشی سے اسی درخت کے نیچے بیٹھ گئے۔انہوں نے جا کر اپنے والد سے ذکر کیا کہ ایک ایسا شریف النفس انسان ہم نے دیکھا ہے ،اس نے محض خدمت کی خاطر ہماری طرف توجہ دی اور جب ہماری بھیڑ بکریوں کو پانی پلا دیا تو خاموشی سے اپنی جگہ جا کے بیٹھ رہا اور ان میں سے ایک نے اپنے باپ کو مشورہ یہ دیا کہ کیوں نہ ہم اس کو ملازم رکھ لیں۔کیونکہ شریف النفس تو ہے ہی اور آپ کے گھر میں رہنے کے لئے ایک شریف النفس انسان چاہئے کیونکہ لڑکیاں ہیں لڑکا کوئی نہیں اس لئے ایسا شخص جو امین بھی ہو ، طاقتور بھی ہو اس سے بہتر ملازم اور کوئی مل نہیں سکتا تو کیوں نہ