اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 440 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 440

حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۴۴۰ خطاب ۸ ستمبر ۱۹۹۵ء بھی مجھے یہ رجحان نظر آتا ہے اور جہاں تک آج کل کے زمانے کی مسلمان غیر احمدی بچیاں ہیں ان میں تو یہ رجحان نمایاں ہوتا جا رہا ہے۔ابھی پچھلے دنوں کی بات ہے کہ ایک خاتون جو خود احمدی ہوئیں تھیں ایک اچھے خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، بہت مخلص ہیں انہوں نے مجھ سے شکایت کی کہ میری بیٹی کو اتنا مرد بننے کی عادت پڑ چکی ہے کہ کسی طرح سمجھتی نہیں ہے۔اس کو ہزار سمجھا یا سب نے منتیں کیں ہزار ہاقتم کے حوالے دیئے وہ کہتی ہے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا میں تو لڑکا ہی بن کے رہوں گی لڑ کا کہلاؤں گی اور لڑکوں والے کام کروں گی اور کون ہے جو مجھے روک سکے تو میں نے ان سے کہا کہ آپ اگلی دفعہ اس بچی کو ساتھ لے آئیں تو لڑکا لڑکی جب سامنے آیا تو کہہ نہیں سکتا تھا کہ آیا کہ آئی۔اس کی شکل بالکل لڑکوں والی اسی طرح کے لباس پہنے ہوئے تنے ہوئے اور ٹائی لگائی ہوئی ہیٹ رکھا ہوا سر کے اوپر تو کچھ دیر کے بعد میں نے اسے آہستہ آہستہ پیار سے سمجھانا شروع کیا اور عجیب اللہ تعالیٰ کا تصرف تھا کہ دس پندرہ منٹ کے اندر اندر ہی وہ بات سمجھ گئی اور مجھے اس نے کہا کہ ہاں اب میں مانی ہوں اور میں وعدہ کرتی ہوں کہ آئندہ سے اب لڑکی بن کے رہوں گی۔تو یہ بیماری ہے جو آج کل کے زمانے کی ہے۔اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور ان دونوں کے اندر ان دونوں باتوں میں در حقیقت جنسی بے راہ روی کی رو ہے جو اندراندر چل رہی ہے۔وہ لڑکیاں جو لڑکا بننے کے انداز اختیار کرتی ہیں ان کی نیتوں میں بھی کچھ فتور ضرور ہوتا ہے۔وہ لڑکے جو لڑکیاں بن کے پھرتے ہیں ان کی نیتوں میں بھی کچھ فتو ر ضرور ہوتا ہے۔اب اس کی تفصیل میں یہاں بیان نہیں کر سکتا مگر اس زمانے کی بعض بیماریاں ہیں جنسی بیماریاں جن کے متعلق تفصیل میں جائے بغیر اتنا تو آپ یہاں رہتے ہوئے جان چکی ہوں گی کہ ان دونوں اداؤں کا ان بیماریوں سے تعلق ہے۔بعض دفعہ لوگ صرف نقالی میں ایسا کرتے ہیں یعنی یہاں کی بچیاں بھی بعض طرزیں اختیار کر لیتی ہیں محض اس لئے کہ اپنے کالج میں اپنے سکول میں یو نیورسٹیز وغیرہ میں وہ ایسی باتیں دیکھتی ہیں۔حضرت عبد اللہ بن عمر بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ۔جو شخص کسی قوم کی نقالی کرے اور اس کی چال ڈھال رکھے وہ انہی میں سے ہوگا۔یہ جو لفظ ہے انہی میں سے ہوگا یہ سمجھنے والا ہے کیونکہ اس کا مطلب ایک تو یہ ہے کہ جو جیسا بننا چاہتا ہے اس کی فطرت بتارہی ہے کہ در حقیقت اس کا دل ان میں ہے ،اس کا دماغ ان میں ہے اس لئے وہ بظا ہر کسی