اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 434
حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۴۳۴ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ء ہمیشہ اولاد پر تسکین کے سائے ڈالتی ہے۔ایک بوڑھی ماں کا غم بھی بوڑھی اولا د کو بعض دفعہ بے چین کر دیتا ہے۔اولاد خود بھی بڑی عمر کو پہنچ چکی ہے لیکن ماں کی کمی پوری نہیں ہوتی۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ماؤں کے قدموں تلے جنت کا ایک یہ بھی معنی ہے جیسی ماں کی ٹھنڈی چھاؤں ہے جیسے اس کی تسکین ہے ویسے اور کسی رشتے کو نصیب نہیں۔تو عورت کے مقام کو دیکھیں کہاں سے اٹھا کر کہاں تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسے پہنچا دیا۔کیسے ممکن ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم عورت کی حق تلفی کی تعلیم دیں۔آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے قدم قدم پر عورت کے حقوق کی حفاظت فرمائی ایسی حفاظت فرمائی کہ دنیا میں کبھی کوئی انسان کوئی مرد ایسا پیدا نہیں ہوا جس نے عورت کے حقوق کی خاطر ایسی جدو جہد فرمائی ، ادنی ، باریک باتوں کا خیال رکھا۔ایک دفعہ ایک اونٹ ذرا تیزی سے بھگایا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: قَوَارِيرَا قَوَارِيرَا ( مسلم کتاب الفضائل باب فی رحمۃ النبی )۔اس پر عورتیں بیٹھی ہیں وہ تو شیشے ہیں ان کا خیال رکھنا ، اس بار یک نظر سے آپ نے عورت کا خیال رکھا ہے۔کہ وہ گھر جو اسلام بظاہر عورت کے سپر د کرتا ہے اس میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم سب مردوں سے بڑھ کر اپنی بیویوں کے مددگار ہوتے تھے بلکہ بعض دفعہ ان سے بڑھ کر کام کر لیا کرتے۔پس یہ وہ دونوں کا باہم نیکیوں پر تعاون ہے جو دنیا کو جنت عطا کرے گا۔یہ مضمون تو جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے بہت وسیع ہے۔بکثرت حوالے میرے پاس ہیں جن میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نصائح بھی ہیں۔مگر اب چونکہ وقت ہو چکا ہے نماز کا وقت قریب ہے اس لئے اب میں آپ سے اجازت چاہتا ہوں میں امید رکھتا ہوں کہ آئندہ ان چھوٹی چھوٹی رسمی بحثوں میں اپنا وقت نہیں ضائع کریں گی کہ فلاں کا پردہ اچھا ہے یا میرا پردہ اچھا ہے۔فلاں ضروری ہے یا غیر ضروری ہے، اگر روح اسلام کو آپ سینے سے چمٹائے رکھیں اگر آپ کے دل اسلام کی روح کے ساتھ دھڑکتے ہوں تو ظاہری پردہ خواہ اس نوعیت کا ہو یا اس نوعیت کا ہو یقیناً آپ مقام محفوظ پر ہیں۔یقیناً آپ ہی ہیں وہ جن سے انشاء اللہ پردے کی روح ہمیشہ زندہ رہے گی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔یاد رکھیں اگر احمدی خواتین نے یہ جھنڈے ہاتھ سے چھوڑ دیئے تو آج دنیا میں کوئی نہیں جو ان جھنڈوں کو اُٹھائے۔پھر اسلام کا یہ حکم گر جائے گا اور ہمیشہ کے لئے گر جائے گا۔آپ کو خدا نے پیدا کیا ہے کہ اس جھنڈوں کو بلند رکھیں۔اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ہو۔اللہ تعالیٰ آپ کو تو فیق عطا فرمائے۔