اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 430 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 430

حضرت خلیفتہ مسح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۳۰ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ء بھی دلچسپی ہو وہ بے رونق اور بد زیب دکھائی نہ دیں۔سلیقے والیاں ہوں لیکن متداول مزاج کی متناسب زندگی اختیار کرنے والی تو اُن پر کوئی گناہ نہیں ہرگز ان کا شاپنگ بھی گناہ نہیں بن سکتا۔ہرگز ان کا دوسری دلچسپیوں میں حصہ لینا بھی گناہ نہیں بن سکتا مگر اگر اتنی دلچسپی لی جائے کہ دین سے نظریں غافل ہو جائیں اور دنیا کی طرف مائل ہو جائیں بلکہ چپکنے لگیں دنیا سے تو یہ وہ خطرناک منزل ہے جس کے بعد پھر واپسی کی توقع بہت کم رہ جاتی ہے بظاہر یہ عورتیں پاکباز بھی دکھائی دیں تو آئندہ کے لئے پاک پیج چھوڑ کر نہیں جاتیں بلکہ معاشرہ دن بدن گرتا چلا جاتا ہے اور اس میں شجرہ خبیثہ کے پنپنے کے لئے زیادہ سازگار ماحول پیدا ہو جاتا ہے۔چنا نچہ اللہ تعالیٰ یہ ذکر کرنے کے بعد فرماتا ہے نمازوں کو قائم کرو۔تمہارا اولین فرض ہے ، زکوۃ دو اور زکوۃ دینا اپنی ذات میں ایک لذت رکھتا ہے۔آپ میں سے وہ خواتین (اور بہت سی ہوں گی میں امید رکھتا ہوں ) جن کو غریبوں سے ہمدردی ہے، غریبوں پر کچھ نہ کچھ خرچ کرنا ان کا ایک دائمی مزاج بن چکا ہوتا ہے وہ جانتی ہیں کہ جو کسی غریب کی ضرورت پورا کرنے میں لذت ہے وہ کسی سے کوئی تحفہ پانے میں لذت نہیں ہوتی زمین آسمان کا فرق ہے۔کہاں وہ لذت کہ کسی بھو کے کو آپ کھانا کھلانے کا موجب بنیں ، کسی غریب عورت کو جو اپنا تن ڈھانچنا چاہتی ہے مگرتن ڈھاپنے کے لئے کپڑے نہیں اس کو مخفی ہاتھوں سے کپڑے پہنائیں اور یہ جانتے ہوئے کہ اللہ کے پیار کی نظریں آپ پر پڑ رہی ہوں گی اور کہاں یہ لذت کہاں کسی سے ایک اچھا قیمتی جوڑا تحفے میں حاصل کر لینا۔وہ آیا اور گیا اور بات ختم ہوگئی۔شکریے ادا ہو گئے مگر جو عطا کی لذت ہے وہ ایک دائمی لذت ہے وہ ایسی لذت ہے جو آپ کے کردار پر گہرے اثر مترتب کر جاتی ہے۔آپ کو پہلے سے بہتر بناتی چلی جاتی ہے آپ کی غیرت اپنی نظروں میں بڑھتی چلی جاتی ہے اور خدا کی نظر میں بھی آپ کی عزت بڑھتی چلی جاتی ہے۔پس لذتیں مختلف قسم کی ہیں ایکسائٹمنٹ (Excitement) میں بھی لذت ہے تسکین میں بھی لذت ہے کچھ مانگنے اور لینے میں بھی لذت ہے، کچھ عطا کرنے میں بھی لذت ہے اللہ نے جو اسلام کا مزاج بنایا ہے اس کا تعلق عطا کی لذتوں سے ہے۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ ( آل عمران : 1) اے امت محمدیہ ! آج تک جتنی بھی امتیں نکالی گئیں تم ان میں سب سے بہتر ہو کیوں بہتر ہو؟ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ کیونکہ تم بنی نوع انسان کو فائدہ پہنچانے کے لئے پیدا کئے گئے ہو تم سے خیر دوسروں