اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 421 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 421

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۴۲۱ خطاب ۲۸ جولائی ۱۹۹۵ء تاریخی دور سے گزر چکے ہیں جہاں بچوں سے کام لینا ایک دور میں ضروری تھا اور جتنی سختی یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور ہندوستان میں ہو رہی ہے اس سے دس گنا زیادہ بختی یہ مظلوم بچوں پر یہاں کیا کرتے تھے ایک اقتصادی دور ہے یہ اس سے آگے نکل چکے ہیں۔بعض غریب ممالک ابھی وہاں تک پہنچے نہیں ہیں اس لئے یہ خیال کہ ایک صدی میں ساری قومیں یکساں برابر چل رہی ہیں بالکل جھوٹا اور بے معنی خیال ہے۔ایک ہی صدی میں ہزار سال پہلے کے لوگ بھی موجود ہیں وہ اسی طرح ہزار سال پہلے کا سفر کر رہے ہیں۔ایک ہی صدی میں سو سال پہلے کے لوگ بھی موجود ہیں، دو سو سال پہلے کے لوگ بھی موجود ہیں تو ان پر ان کے حالات کے مطابق فیصلہ کرنا ہو گا اور حالات کے مطابق فیصلہ کرنا ہوگا حالات کے مطابق احکامات جاری کرنے ہوں گے۔پر دے کا بھی اس مضمون سے گہرا تعلق ہے جن سوسائٹیوں میں عورتوں نے کام کرنا ہے ان میں پیشے مختلف قسم کے معزز پیشے اختیار کرنے ہیں۔ان کو اس قسم کا برقع پہنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا ہے اسلام یہ چاہتا ہے کہ وہ ایسا پردہ کریں اُن کے لئے یہ پردہ ضروری ہے جو میں نے بیان کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو بچا کر رکھیں، باہر نکلیں تو اپنی زینت کو چھپائیں نہ کہ اس کو ظاہر کریں، اپنی خوبصورتی کو دبائیں نہ کہ ابھار ہیں تا کہ غیر نظریں بے وجہ اُن پر نہ پڑیں اور غلط پیغام قبول نہ کریں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی پردے کی ضرورت کو بیان کرتے ہوئے یہی مضمون بیان فرمایا ہے۔پس ایک تو وَالْقَوَاعِدُ مِنَ النِّسَاء والی آیت ہے النور کی وہ اس مضمون کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈال رہی ہے۔دوسری آیت جو میرے سامنے ہے۔وَقَرْنَ فِي بُيُوتِكُنَّ وَلَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْأُولى وَاَقِمْنَ الصَّلوةَ وَاتِينَ الزَّكُوةَ وَاَطِعْنَ اللهَ وَرَسُولَهُ (الاحزاب : ۳۴) إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَبَرَكُمْ تَطْهِيرًان یہ جو آیت ہے جس میں ایک نسبتاً سخت پردے کا حکم دکھائی دیتا ہے اس کا تعلق حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی بیویوں اور اہل بیت سے خصوصیت سے ہے اُس کی وجہ یہ ہے کہ بعض رشتوں کے نتیجے میں بعض خاندان خصوصیت کے ساتھ تنقید کا نشانہ بھی بنتے ہیں اور ان کی رسمیں نسبتاً