اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 405
۴۰۵ خطاب ۲۶ را گست ۱۹۹۴ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات قربانیاں پیش کرنے کی توفیق ملی ہے وہ محبت ہی نے آسمان کی تھیں۔محبت ایک عجیب کیفیت ہے، جو ایک عجیب طاقت ہے جو ناممکن کو ممکن کر دکھائے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جب صحابہ اور صحابیات کو قربانیوں کی توفیق ملی تو اس کا فلسفہ بھی یہی ہے کہ وہ محبت میں گم ہو چکے تھے، محبت میں فدا ہو چکے تھے اگر محبت نہ ہوتی تو ان کے لئے ناممکن تھا کہ ان کڑی راہوں سے گزر سکتے۔ان سختیوں کو جھیل سکتے ، ان مشقتوں کو برداشت کر سکتے جو دین کی راہ میں ان کو دیکھنی پڑی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت بھی خدا کی محبت کے بعد ان پر حیرت انگیز اثر دکھا رہی تھی اور اس محبت کی خاطر وہ دیوانہ وار ہر قربانی کے لئے تیار ہو جاتے تھے۔ایک جنگ کے موقع پر ایک مسلمان خاتون کا یہ واقعہ ہمیشہ اسلامی تاریخ پر ستاروں کی طرح روشن اور چمکتا رہے گا۔اس نے جب یہ سنا کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو چکے ہیں تو مدینہ سے دیوانہ وار کی کسی اور چیز کی ہوش نہیں رہی۔میدان اُحد کی طرف دوڑی چلی جارہی تھی اور ہر ایک سے پوچھتی تھی کہ محمد مصطفی کا کیا ہوا۔ایک موقع پر ایک آنے والا جانتا تھا کہ اس خاتون کا خاوند بھی شہید ہو چکا ہے، اس کا بھائی بھی شہید ہو چکا ہے، اس کا بیٹا بھی شہید ہو چکا ہے۔اس نے جب اس سے پوچھا کہ مجھے بتاؤ محمد مصطفی کا کیا ہوا۔اس نے کہا بی بی تمہارا خاوند شہید ہو گیا ہے۔لیکن میں خاوند کا کب پوچھتی ہوں۔مجھے بتاؤ کہ محمد رسول اللہ کا کیا ہوا۔اس نے سمجھا شاید خاوند کی محبت بعض لوگوں کو نہیں ہوتی۔اس نے کہا بی بی تمہارا بھائی بھی شہید ہو گیا ہے۔بڑے غصے سے پلٹ کے اس نے کہا میں بھائی کا کب پوچھ رہی ہوں۔مجھے بتاؤ میرے محبوب محمد رسول اللہ کا کیا ہوا۔اس نے پھر یہی سمجھا کہ شاید یہ وہ ماں ہے جو بیٹے کی محبت میں سرشار ہے، نہ بھائی کی پرواہ ، نہ خاوند کی ، آخر اس نے یہ خبر تو ڑی کہ بی بی تمہارا بیٹا بھی شہید ہو چکا ہے۔تڑپ گئی ہے، میں بیٹے کا کب پوچھتی ہوں۔مجھے بتاؤ میرے محمد کا کیا بنا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کیا بیتی۔عجب اتفاق ہوا ، خدا تعالیٰ کا تصرف تھا کہ ابھی وہ یہ کہہ ہی رہی تھی کہ دور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوصحابہ کے جھرمٹ میں زخمی حالت میں ان کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے آتے ہوئے دیکھا۔دوڑ کے گئی اور دیکھتے ہوئے مسرور ہو گئی۔اور اس کے منہ سے یہ فقرہ بے اختیار نکلنا شروع ہوا۔و كل مصيبة بعدك جلل ـ كل مصيبة بعدک جلل کہ اے میرے محبوب ! اگر تو زندہ ہے تو ہر دوسری مصیبت ٹل چکی ہے، میرے لئے آسان ہوگئی۔مجھے کچھ پرواہ نہیں ہے اور مصیبتیں کیا ہیں۔تو دیکھو یہ عشق ہی تھا جس نے ایک بیوہ کو اپنے خاوند کا غم برداشت کرنے کی توفیق بخشی۔