اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 391
۳۹۱ خطاب ۲۶ اگست ۱۹۹۴ء حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات انہوں نے کہا اس کے تین بچے ہیں میں اسے کیسے گھر لا سکتا ہوں۔یعنی جو لکھنے والی ہیں کہتی ہیں میرے والد پر دباؤ ڈالا گیا کہ مجھے خاوند سے طلاق دلوا کر یا خلع دلوا کر باپ اپنے گھر لے جائے۔۸۴ء کے بعد پھگلے میں شدید مخالفت ہوئی ، ہمارے گھر پر پتھراؤ کیا جاتا رہا، بچوں کو سکول جاتے ہوئے لوگ مارتے اور گالیاں دیتے۔ایک وقت ایسا بھی آیا کہ بیٹا خاوند اور گھر کے دوسرے افراد کلمہ پڑھنے کی وجہ سے جیل میں چلے گئے اور گھر میں صرف عورتیں رہ گئیں۔اب اس سے آپ کو اندازہ ہوگا کہ کس طرح جھوٹے اور بدکردار لوگ ہیں یہ کہتے ہیں کہ کلمہ پڑھ تو پھر تمہیں چھوڑیں گے اور جب احمدی کلمہ پڑھتا ہے تو کہتے ہیں تم نے ہتک رسول کی ہے تمہیں پھانسی چڑھنا چاہئے اس لئے خدا سے ان کا کوئی دور کا بھی تعلق نہیں۔محض گندی ذہنیت کے بدکردار ملاں ہیں جو اپنے نفس کی آگ بجھانا چاہتے ہیں اس کے سوا ان کا کوئی مقصد نہیں۔ایک طرف احمد یوں کو مار رہے ہیں، اُن کے گھر جلا رہے ہیں کہ کلمہ پڑھو، دوسری طرف احمدیوں کو جیلوں میں ٹھونس رہے ہیں اور اُن پر دفعہ ۲۹۵ (C) کے مقدمے دائر کر رہے ہیں۔جرم پوچھو تو صرف اتنا کہ انہوں نے کلمہ پڑھا تھا۔پس کلمہ پڑھنا بھی موت کی سزا چاہتا ہے، کلمہ نہ پڑھنا بھی موت کی سزا چاہتا ہے۔پس ان کی بدکرداری اور جھوٹ کو ظاہر کرنے کے لئے یہ کافی وشافی وجہ ہے۔باہر کی دنیا کے لوگ ان باتوں کا تصور بھی نہیں کر سکتے۔وہ آپ کو دیکھتے ہیں وہ سمجھتے ہیں عام سی عورتیں ہیں اسی طرح آجائیں گی حالانکہ آپ میں وہ کثرت سے ایسی عورتیں بیٹھی ہوں گی جن کے گھروں پر کسی نہ کسی وقت احمدیت کی دشمنی میں کوئی قیامت ٹوٹی ہوگی۔کئی ایسی مائیں ہوں گی جن کے بچے جب سکول سے واپس آتے تھے تو روتے ہوئے اس وجہ سے اپنے زخم دکھاتے آتے تھے کہ مار پڑی ہے محض اس لئے کہ ہم احمدی ہیں اور روزانہ یہی ظلم بچوں پر ہوتا رہا۔پس یہ وقت ہے کہ ہم ان ساری باتوں کی حفاظت کریں ، ان کو اپنی تاریخ کا انمٹ حصہ بنائیں اور آئندہ نسلوں کو بھی بتائیں کہ ایمان کی قیمت دینی پڑتی ہے اور احمدی خواتین نے بھی بڑی بڑی قیمتیں دے کر اپنے ایمان کی حفاظت کی ہے۔آگے کہتے ہیں پھر انہوں نے گھر پر پتھراؤ کیا اور خاوند اور بیٹا تو جیل جاچکے تھے صرف عورتیں تھیں۔ہم نے بہت صبر اور ثابت قدمی کے نمونے دکھائے اور اللہ تعالیٰ نے بالآخر ہمیں حفاظت سے وہاں سے نکال لیا۔رحمت بی بی صاحبہ اہلیہ ماسٹر غلام محمد صاحب لکھتی ہیں کہ ۷۴ء میں جب حالات خراب ہوئے