اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 387
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۳۸۷ خطاب ۲۶ / اگست ۱۹۹۴ء احمدی خواتین کی عظیم الشان قربانیاں جلسہ سالانہ مستورات جرمنی سے خطاب فرموده ۲۶ را گست ۱۹۹۴ء) تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے بعض خواتین کو جو باتیں کر رہی تھیں جس سے بہت شور بلند ہورہا تھا، حضور نے منتظمات کو اس طرف توجہ دلانے کے بعد فرمایا: گزشتہ ایک دو سال سے میرا یہ دستور ہے کہ جلسہ سالانہ یو کے سے عورتوں کے خطاب میں جو مواد بچتا ہے وہ میں جرمنی کے جلسے میں پیش کر دیتا ہوں کیونکہ ایک دفعہ اس مواد کو بیان کرنا ممکن نہیں۔وقت تھوڑا ہوتا ہے اور بانٹ کر بات کرنی پڑتی ہے۔تو کچھ وہاں جلسہ سالانہ یو۔کے میں جو باتیں کی تھیں ان کا بقیہ حصہ میں اب آپ کے سامنے رکھنے لگا ہوں۔مضمون کا عنوان ہے ”احمدی خواتین کی عظیم الشان قربانیاں اور گزشتہ جلسہ سالانہ یو۔کے پر میں نے عموماً ان خواتین کا ذکر کیا تھا جن کے قریبی شہید ہوئے یا باپ شہید ہوئے یا بھائی یا بیٹے۔اپنی آنکھوں سے انہوں نے وہ واقعات دیکھے یا قریب ہی تھیں اور ان تک پہنچنے کی طاقت نہیں تھی لیکن بہت گہرے صدمے میں سے وہ خود گزری ہیں اور کیا ان کے دلوں پر کیفیات گزریں، کس طرح انہوں نے صبر کی توفیق پائی ، بہت ہی دردناک واقعات تھے جن کا میں نے گزشتہ جلسے پر ذکر کیا تھا، یعنی یو۔کے۔کے جلسے پر۔اب آپ کے لئے نسبتاً کم درجے کے واقعات چنے ہیں، یعنی شہداء کے ذکر کے نہیں بلکہ احمدی خواتین جب فسادات میں سے گزریں اور مختلف ملک کے حصوں میں اُن فسادات نے کیا شکل اختیار کی بے سہارا احمدی خواتین اور چھوٹے چھوٹے بچوں پر کیا گزری اُن کی زبان ہی سے یہ باتیں میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں تا کہ آپ کو معلوم ہو کہ جماعت احمدیہ کی تاریخ کتنی عظیم قربانیوں کے ساتھ لکھی جارہی ہے۔یا شہداء کا خون ہے جو جماعت احمدیہ کی قربانیوں کے لئے یعنی آسمان پر