اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 362 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 362

حضرت خلیفتہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۳۶۲ خطاب الرستمبر ۱۹۹۳ء اپنی بہن کو سمجھایا کہ تم نے سنا نہیں کہ امی کہہ رہی تھیں ابو فوت ہو گئے ہیں وہ کبھی نہیں آئیں گے۔قرة العین غصے میں اونچا بولنے لگی کہ جی نہیں ابو جو وعدہ کرتے ہیں ضرور پورا کرتے ہیں انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ گڑیالا ئیں گے۔اب وہ وعدہ تھا گڑیا لانے کا اس وقت جب کہ وہاں ان کی تقرری اپنے اختتام کو پہنچتی اور ابھی ایک دو سال ان کے آنے میں باقی تھے۔اس لئے ان کی والدہ کو ( اس بچی کی والدہ کو ) وہم و گمان بھی نہیں تھا کہ وہ ابھی گڑیا لے بیٹھے ہوں گے۔یعنی عقلاً یہ ناممکن بات تھی تو اس لئے وہ ان کو سمجھاتی تھیں کہ بیٹی گڑیا نہیں آئے گی تم خواہ مخواہ اپنا دل اس پر نہ لگا ؤ اور بہن بھی کہتی تھی تو وہ آگے سے تن کر کہتی تھی کہ نہیں میرے ابا تو وعدے کے بچے ہیں۔کہتی ہیں کہ عجیب بات ہے کہ جب سامان آیا تو سامان پر سب سے او پر گڑیا پڑی ہوئی تھی۔کہتی ہیں ورد سے اور خدا کے شکر سے میری چیخیں نکل گئیں۔اللہ کی عجیب شان ہے کس طرح اس معصوم بچی کا دل رکھ لیا اور اس کے باپ کی صداقت کا نشان قائم کر دیا کہ بچی کو جو توقع تھی کہ میرا باپ جھوٹ نہیں بولتا سچے وعدہ کرتا ہے۔اس کے وعدے کو اسی طرح پورا فرما دیا کہ وہ گڑیا انہوں نے واپسی سے بہت پہلے سے خرید کر رکھ لی تھی اور سامان بھیجنے والوں نے بھی سامان کے اوپر سجا کر وہ داخل کی ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کوئی اتفاقی حادثات نہیں ہیں یہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے نشان ہیں اور اس کے پیار کے اظہار ہیں جو اپنی خدمت کرنے والے واقفین سے بھی اور خدمت کرنے والے دوسرے خدام سے بھی وہ شفقت کے سلوک فرماتا ہے۔یہ سب ان کے اظہار ہیں یہ اپنی صداقت کے نشان اپنے ساتھ رکھتے ہیں۔کوئی نہیں ہے جو احمدیت سے اس الہی محبت اور پیار کے تعلق کو چھین سکے۔ہاں آپ اپنے تعلق میں وفا کریں تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ خدا سب وفاداروں سے بڑھ کر وفا دار ہے۔آپ میں سے ہر ایک کے گھر میں نازل ہوگا۔ہر ایک کے سینے کو منور کرے گا۔آپ اپنی دعاؤں کی قبولیت کے نشان خود دیکھیں گی۔آپ کے بچے آپ کے ایمان سے اور ایمان کے پھلوں سے فیض یاب ہوں گے اور نسلاً بعد نسل ہمیشہ یہ فیض احمدیت میں جاری وساری رہے گا۔ایک خاتون شیخ سردار محمد صاحب کی اہلیہ لکھتی ہیں کہ بارہ سال مسلسل ہدایت کے لئے دعائیں کرتی رہیں۔آپ کے والد تو احمدی ہو کر قادیان جاچکے تھے۔لیکن سارا خاندان شدید مخالف تھا اور میرے والد کا بائیکاٹ کر رکھا تھا۔کہتی ہیں میں بہت روتی رہی دعائیں کرتی رہی اور تحقیق بھی کرتی رہی لیکن احمدیت کی طرف مائل نہ ہوئیں۔آخر ایک رات انہوں نے خواب میں دیکھا کہ وہ کشتی