اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 356
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات سے خطابات ۳۵۶ خطاب الرستمبر ۱۹۹۳ء نے خیال کیا کہ اب اگر مانگنا ہے تو صرف اللہ سے مانگنا ہے کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلانا۔کہتی ہیں میں نے وضو کیا کمرہ بند کر کے خوب دُعا کی شام کو ویسے ہی اپنے کپڑے دیکھ رہی تھی ٹرنک کھولا تو وہاں کسی وقت کے پڑے ہوئے چالیس روپے اور پچاس روپے کے بانڈ مل گئے جو بالکل ذہن میں نہیں تھے اور اللہ تعالیٰ نے پھر وہ ضرورت اس طرح پوری کر دی کہ جب تک میاں کو کام نہیں ملا اس وقت تک پھر کوئی محتاجی نہیں ہوئی پھر خدا تعالیٰ نے دکان دی اور اس میں بہت برکت ڈالی۔ہمارے ایک مربی چوہدری لطیف احمد صاحب شاہد مربی کی اہلیہ صفیہ بیگم بیان کرتی ہیں کہ ایک دفعہ میرا بڑا لڑکا جو کالج میں زیر تعلیم تھا اس کے پاس فیس کے لئے پیسے نہیں تھے جو کئی سوروپے تھی۔مولوی صاحب ملک سے باہر تھے۔پیسے آپ کے پاس تھے جو پیسے ان کے پاس یعنی اس خاتون کے پاس تھے وہ بہت تھوڑے تھے اور بچہ ضد کر رہا تھا کہ آج ہی ضرور مجھے فیس دینی ہے مجھے لا کر دیں۔کہتی ہیں برقعہ پہن کر تیار ہوگئی کہ کسی ہمسائے سے جا کر پیسے مانگوں لیکن کچھ سمجھ نہیں آتی کہ کہاں جاؤں۔ہمت کر کے باہر کے دروازے تک پہنچی لیکن قدم باہر رکھا ہی تھا کہ دوسری طرف سے دروازہ کھٹکا آپ نے دروازہ کھولا تو ایک شخص نے آپ کو یہ کہ کر اتنے پیسے دیئے جتنی آپ کو ضرورت تھی اور یہ بتایا کہ بچوں کے والد جب تبلیغ کے لئے روانہ ہوئے ہیں تو کچھ پاکستانی کرنسی ساتھ لے گئے تھے تاکہ ضرورت پڑے تو وہ سفر کے سلسلے میں استعمال کریں ائیر پورٹ پر انہوں نے دیکھا کہ اس کی ضرورت نہیں ہے تو اس کے ہاتھ واپس کر دیئے۔چنانچہ وہ عین اُس وقت ان کو پہنچی جس وقت ضرورت تھی اور اتنی ہی رقم نکلی جتنی اس وقت ضرورت تھی۔سلطان محمود صاحب انور ہمارے مبلغ سلسلہ بھی رہے ہیں اور آج کل ناظر اصلاح وارشاد ہیں ان کی بیگم محمودہ شوکت صاحبہ ایک واقعہ لھتی ہیں کہ ایک دفعہ مولوی صاحب غانا تھے۔بچوں کا تعلیمی سال شروع تھا اخراجات کے لئے گھر میں پیسے نہیں تھے۔قرض لینے کی ہمت اس لئے نہ تھی کہ واپس کرنا مشکل ہوگا۔دیکھیں وہی بات دوبارہ وہی نیکی دراصل کام آئی ہے قرض لے سکتی ہیں مگر جانتی ہیں کہ اتنی توفیق نہیں کہ قرض لے کر واپس کروں تو قرض سے اجتناب کیا ہے۔چنانچہ کہتی ہیں کافی سوچ بچار کے بعد پھر مجبور ہوکر میں نے آخر قرض کا ارادہ کر لیا۔چنانچہ واقف کار کے گھر پہنچی لیکن دستک دیتے وقت پھر دل میں تر ڈر پیدا ہو گیا اور خالی ہاتھ واپس آگئی۔ضمیر نے قرض لینے کی اجازت نہ دی۔گھر پہنچی تو دروازے پر ڈاکیہ نے یہ لکھا ہوا تھا کہ آپ کی کچھ رقم کا منی آرڈر آیا ہے آ کر وصول کر لیں۔