اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 355
حضرت خلیفہ مسح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۳۵۵ خطاب اار ستمبر ۱۹۹۳ء تیرے سوا میرا کوئی سہارا نہیں ہے کہتی ہیں مجھے آواز آئی کہ پیسے آئیں گے۔دوسرے دن بچوں نے اصرار کیا تو انہوں نے بڑی مزیدار بات کہی انہوں نے کہا رات مجھے اللہ میاں کا فون آ گیا ہے کہ پیسے آئیں گے کیونکہ کان میں آواز آئی تھی جیسے فون سے آواز آرہی ہو۔کہتی ہیں دوسرے دن ایک شخص آپ کے گھر آکر رقم دے گیا کہ کینیڈا سے ایک عورت نے اپنے خاوند کے کاروبار میں برکت کے لئے آپ سے دُعا کروائی تھی کاروبار بہت اچھا ہو گیا ہے اس خوشی میں یہ رقم آپ کو بھجوا رہی ہوں۔اب دیکھیں کاروبار کی دُعا کب ہوئی کب اس میں برکت پڑی۔کب وہ پیسے وہاں سے چلے ہوں گے کب خدا نے دل میں خیال ڈالا اور ٹائمنگ اس کے وقت کی مطابقت ایسی عظیم الشان ہے کہ ادھر تو کل کر کے وہ قرضے سے اجتناب کرتی ہوئی رات دعائیں کرتی ہیں رات پھر الہاما اللہ تعالیٰ بتاتا ہے کہ پیسے آئیں گے اور دوسری صبح وہ پیسے اس طرح ایسے ذریعے سے آتے ہیں جس کے متعلق کوئی وہم و گمان بھی ان کو نہیں تھا۔اسی طرح مکرمہ مبشرہ بیگم صاحبہ اہلیہ صوفی محمد الحق صاحب لکھتی ہیں کہ تحدیث نعمت کی خاطر بتارہی ہوں کہ رمضان کا مہینہ تھا میری ایک بہن میرے پاس تھی میرے سُسر بھی ان دنوں میرے پاس تھے سخت گرمی کے روزے تھے درس قرآن سے واپس آئی تو روزہ رکھا ہوا تھا۔مہینے کی ۲۶ یا ۲۷ تاریخ تھی میرے پاس دو پیسے بھی نہیں تھے کہ برف ہی منگوا کر ٹھنڈا پانی پی لوں۔اسی طرح قرآن مجید ہاتھ میں تھا اور برقعہ پہنا ہوا تھا۔اس وقت مجھ پر رقت طاری ہوئی خوب دل کھول کر اللہ کے حضور گڑ گڑائی پھر مجھے سمجھ نہیں آئی کہ کیا میں کروں۔کہتی ہیں کہ اچانک مجھے سمجھ نہیں آئی کہ میں کیوں ایسا کر رہی ہوں جو بوسیدہ کپڑوں کا صندوق تھا جس میں پرانے بے کار کپڑے رکھے ہوئے تھے وہ ٹرنک کھولا اور اس کو ٹولنا شروع کیا تو اس میں سے ایک روپیہ نکل آیا یہ روپیہ شاید چند فینگ ہوں جرمنی کرنسی میں لیکن اس زمانے میں پاکستان میں ابھی روپے کی کچھ قیمت تھی۔کہتی ہیں اس سے ہم نے برف منگوا کر ٹھنڈا پانی کر کے شربت بنا کر افطاری بھی کی اور باقی مہینے کے دن بھی اسی روپے سے کئے۔رؤفہ شاہین صاحبہ اہلیہ چوہدری مہر دین صاحب سھتی ہیں ۱۹۷۴ء میں ان کے میاں فیصل آباد میں ایک سٹور پر منیجر تھے جن کی دکان تھی ان کا سلوک اچھا تھا۔لیکن ۱۹۷۴ء کی مخالفت سے مجبور ہوکر انہوں نے ایک دن ان کو رخصت کر دیا اور کہا اب جب تک یہ مخالفت ہے میں تمہیں اپنے پاس نہیں رکھ سکتا کہتی ہیں جو جمع شدہ تھا وہ کم ہونا شروع ہوا یہاں تک کہ فاقوں کی نوبت آگئی ایک ایسا وقت آیا کہ مٹی کا تیل بھی پاس نہیں تھا کہ کچھ جلا کر پانی ہی گرم کر سکوں۔چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔یہ سوچ کر میں