اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 354
حضرت خلیفہ مسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۳۵۴ خطاب ار ستمبر ۱۹۹۳ء ماسفید پگڑی میں ہے اور ساتھ دو عورتیں ہیں۔ربوہ میں جب پہلا جلسہ ہوا تو میں نے اس میں شرکت کی جلسے میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کو دیکھا کہ آپ کے ساتھ حضرت مہر آپا اور چھوٹی آپا جان ہیں تو خواب والا نقشہ میرے ذہن میں چونکہ تازہ تھا۔میں نے صاف پہچان لیا کہ یہی وہ بزرگ تھے اور یہی وہ دوخواتین تھیں جو ان کے ساتھ تھیں۔چنانچہ اس کو دیکھنے کے بعد مجھے شرح صدر ہوا اور میں نے وہیں بیعت کر لی۔شریفہ بی بی صاحبہ اہلیہ عبدالمجید نیاز صاحب ایک دلچسپ واقعہ کا ذکر کرتی ہیں۔کہتی ہیں کہ جب کہ آپ کی مالی حالت بہت کمزور تھی اور سب بچے پڑھ رہے تھے۔جب نیا تعلیمی سال شروع ہوا تو کتابوں اور کاپیوں کے لئے پیسے نہیں تھے۔بچے اصرار کر رہے تھے۔آپ بے حد پریشان تھیں۔کئی بار قرض کا خیال آیا مگر اس خیال سے نہ لیا کہ واپس کیسے کروں گی یہ بہت ہی اہم بات ہے وہ لوگ جو قرض لیتے ہیں ان کو حقیقت میں علم ہوتا ہے کہ وہ قرض واپس کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں کہ نہیں۔پس اگر ایسی حالت میں قرض لیں کہ واپس کرنے کی اہلیت نہ ہو تو وہ دھو کہ بھی ہے اور توکل کے بھی خلاف ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے تو رزق نہیں دیا وہ زبردستی چوری کر رہی ہیں اور اس چوری کا نام قرض رکھ لیتی ہیں۔ایسے لوگوں کے اموال میں کبھی برکت نہیں پڑتی۔ہمیشہ وہ لوگ قرضوں میں رہتے چلے جاتے ہیں اور پھر کچھ عرصے کے بعد لکھتے ہیں کہ دعا کریں قرضہ بہت بڑھ گیا ہے خرچ پورے نہیں ہورہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ قناعت انتہائی ضروری صفت ہے جسے احمدی مردوں اور عورتوں کو اپنا چاہئے۔میں نے بہت سے ایسے غریب دیکھے ہیں جو قناعت پر قائم رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی سفید پوشی کا بھرم رکھتا ہے ان کو کبھی کسی سے مانگنے کی ضرورت نہیں پڑتی اور اگر قرض لیتے ہیں تو اتنا لیتے ہیں جسے وہ واپس کر سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کے اموال میں برکت ڈالتا ہے ان کے لئے غیب سے امداد کے سامان فرماتا ہے اور ان کی دعائیں قبول فرماتا ہے۔پس محض یہ کہنا کہ قرض کی ضرورت تھی میں نے نہیں لیا اور خدا تعالیٰ نے میری دعا نہیں سنی۔یہ کافی نہیں ہے دعا کی قبولیت کی کچھ کیفیات ہوتی ہیں ان میں نفس کی پاکیزگی اور خدا پر تو کل شامل ہے۔پس یہ خاتون جو واقعہ بیان کر رہی ہیں اس میں یہ حکمت ہے کہ قرض لینے گئیں لیکن پھر نفس نے ملامت کی کہ دیکھوتم یہ قرض واپس نہیں کر سکو گی اس وجہ سے واپس آئیں اور اللہ تعالیٰ پر توکل کیا ، تو کہتی ہیں۔میں نے پھر تہجد میں دُعا کی اے میرے اللہ! میں تو بے بس ہوں میں نے صداقت کی خاطر اس قرض سے اجتناب کیا ہے اور اب