اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 339
حضرت خلیفہ مسیح الرابع کے مستورات کے خطابات مخالفت کے علی الرغم اسی وقت بیعت کر لی۔۳۳۹ خطاب ۳۱ ر جولائی ۱۹۹۳ء اب حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کا ایک اور رویا آپ کے سامنے رکھتا ہوں دیکھتی ہیں کہ بھائی مبارک احمد مرحوم بیمار تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے علاج کی کوشش کی دعا ئیں بھی بہت ہوئیں۔میں نے خواب میں دیکھا کہ مسیح موعود علیہ السلام اس پلنگ کے گرداس سلسلہ میں ہی پھر رہے ہیں مگر اس کا انتقال ہو گیا اور میں دروازے پر کھڑی ہوں ، بہت گھبراہٹ کی حالت میں۔جب مبارک احمد کی وفات ہوگئی تو آپ دروازہ کھول کر میرے پاس آئے اور بڑی شاندار پر اثر آواز میں فرمایا کہ مومن کا کام ہے کہ دوا علاج کی کوشش ہر طرح کرے اور دعا میں آخر وقت تک لگا رہے مگر جب خدا تعالیٰ کی تقدیر وارد ہو جائے تو پھر اس کی رضا پر راضی ہو جائے۔یہی الفاظ تھے۔اور وہ عجیب نظارہ تھا جو میں نے دیکھا اور دل پر نقش ہو گیا میں اپنی سمجھ کے مطابق اب سوچتی ہوں کہ یہ منجھلے بھائی صاحب کے لئے ہی خواب تھا کیونکہ میرے چھوٹے بھائی کے لئے تو کچھ بھی نہ ہوسکا تھا۔میرے منجھلے بھائی کیلئے تو آخر دن تک ہر ممکن کوشش کی گئی۔نہ علاج میں کمی رہی نہ صدقات میں نہ دعاؤں میں مگر جو خدا کی طرف سے مقدر تھا وہ پورا ہو کے رہا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وصال سے پہلے مائی اروڑی نے جو ایک دعا گو خاتون تھیں۔انہوں نے دیکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لا رہے ہیں اور کچھ صحابہ آپ کے ساتھ ہیں تو ساتھیوں میں سے ایک نے عرض کیا کہ حضور مفتی صاحب کو بھی ساتھ لے لیں۔چنانچہ مفتی صاحب بھی سفر کے ساتھ روانہ ہوئے۔یہ آپ کے وصال سے چند دن پہلے کی رؤیا ہے حضرت محمد ظفر اللہ خاں صاحب اپنی والدہ کی ایک اور رؤیا کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ان کی والدہ کو اپنے خاوند یعنی چوہدری صاحب کے والد کی وفات کی خبر دے دی گئی تھی۔اس ضمن میں فرماتے ہیں کہ انہوں نے رویا میں دیکھا کہ ڈاکٹر صاحبان والد صاحب کو دیکھنے کے بعد ، دو ڈاکٹر ہیں، جو والد صاحب کو دیکھنے کے بعد ساتھ کے کمرے میں چلے گئے۔خاکسار نے والدہ صاحبہ کو اطلاع کی وہ والد صاحب کے کمرے میں تشریف ( یہاں جواب لکھنے میں Confusion ہو گیا ہے )۔چوہدری صاحب پہلے ایک واقعہ بتاتے ہیں پھر اس کے بعد رؤیا کا ذکر ہے۔وہ واقعہ یہ ہے کہ جب والد صاحب بیمار تھے اور نہایت ہی خطرناک صورتحال تھی تو چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب نے ڈاکٹروں کو بلوایا اور دوڈاکٹر دیکھنے کے لئے آئے۔ان کے آنے کی وجہ سے والدہ محترمہ نے وہ کمرہ چھوڑ