اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 340 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 340

حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات کے خطابات ۳۴۰ خطاب ۳۱ جولائی ۱۹۹۳ء دیا کسی اور ساتھ کے کمرے میں چلی گئیں۔جب وہ واپس جانے لگے، اس خیال سے کہ وہ جاچکے ہوں گے، چوہدری صاحب کی والدہ دوبارہ کمرے میں داخل ہو رہی تھیں تو وہ دونوں باہر نکل رہے تھے۔ان کو دیکھ کر والدہ صاحبہ نے اپنا ایک خواب مجھے سنایا کہ میں نے دیکھا کہ دو شخص انگریزی لباس پہنے ہوئے کمرے سے باہر جارہے ہیں کسی نے ان کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ دو شخص چوہدری صاحب یعنی والد صاحب کو قتل کر گئے ہیں اب جبکہ میں نے دیکھا ہے تو اسی حالت میں پیٹھ کی طرف سے دیکھا تھا یہی وہ دو شخص تھے اس لئے والد کی وفات کی تیاری کرو۔ایسا ہی ہوا اس کے چند دن بعد ہی وہ وفات پاگئے۔چوہدری صاحب میر انعام اللہ شاہ صاحب کی وفات کے متعلق ایک خواب کا ذکر کرتے ہیں کہ ان کی والدہ نے دیکھا کہ ایک روز تہجد اور فجر کے درمیان پلنگ پر لیٹی ہوئی تھیں تو دیکھا کہ آواز آئی کہ میر صاحب کی صحت کہ اس کا کرنٹ بند کر دیا گیا ہے یعنی بجلی کی ہر منقطع کر دی گئی ہے۔اسی صبح ہی والدہ نے کہا کہ میر صاحب فوت ہو گئے ہیں پتہ کرو۔چنانچہ جب پتہ کرایا گیا تو جس وقت وہ رؤیا دیکھی تھی اسی وقت کسی اور شہر میں میر صاحب وفات پاگئے تھے اور دوسرے دن پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ کس طرح عین اُس وفات کے وقت چوہدری صاحب کی والدہ کو خدا تعالیٰ نے یہ دکھا دیا۔انشاء اللہ بعد میں چھپوا دیں گے یہ واقعات اور کچھ اور بھی واقعات ، کیونکہ بہت زیادہ ہیں ان کو سمیٹا نہیں جاسکتا۔ایسے رویا وکشوف میں چین کی احمدی خاتون، عثمان چینی صاحب کی بیگم یہاں اسلام آباد میں موجود ہیں ان کی ایک رویا بھی میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔وہ کہتی ہیں جب میں چین سے پاکستان آئی اور عثمان چینی صاحب کے ساتھ بیاہی گئی تو اس وقت عربی زبان سے بالکل نابلد تھی اور نہ ہی عربی زبان میں کوئی دُعا کر سکتی تھی ( نابلد تو اب بھی ہیں لیکن دُعا کرسکتی ہیں اس وقت نابلد بھی تھیں اور دُعا بھی کوئی یاد نہیں تھی) ان دنوں میں خواب میں دیکھا کہ میں اور عثمان چینی صاحب ایک ایسے کھیت میں چل رہے ہیں کہ دونوں طرف لہلہاتی ہوئی فصلیں کھڑی ہیں۔اس چہل قدمی کے دوران عثمان صاحب مجھے یہ دعا سکھلاتے ہیں۔رَبِّ لَا تَذَرُنِي فَرْدًا وَّ أَنْتَ خَيْرُ الْوَرِثِينَ اس دعا کو پڑھتے پڑھتے میری آنکھ کھل گئی اور اسی وقت سے یہ دُعا مجھے یاد ہے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس دُعا کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے مجھے تین بچے عطا فرمائے۔اب چونکہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ وقت ختم ہو چکا ہے ایک آدھ منٹ باقی ہے میں آخر پر آپ کو صرف یہ توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ احمدیت کو ابھی بہت لمبا سفر طے کرنا ہے اور بہت زادراہ کی ضرورت ہے