اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 338
حضرت خلیفہ آسیح الرابع' کے مستورات کے خطابات ۳۳۸۔خطاب ۳۱ ؍ جولائی ۱۹۹۳ء کہ اگر آپ سے کوئی پوچھے کہ کون ملے ہیں تو کہیں احمد ملے ہیں۔اس پر والدہ صاحبہ بیدار ہوگئیں۔اپنی رؤیا اور کشوف کے نتیجے میں آپ نے اپنے بزرگ خاوند سے پہلے بیعت کر لی تھی اور اس کے نتیجے میں اُن کی ناراضگی اس حد تک مول لی کہ جب آپ قادیان سے بیعت کر کے واپس آئیں تو چوہدری نصر اللہ خاں صاحب شدید ناراض ہوئے اور کہا کہ مجھ سے پہلے بغیر اجازت کے تم نے کیوں کی ہے آج کے بعد میرا اور تمہارا ازدواجی رشتہ ختم ہے۔میرے لئے یہ جائز ہی نہیں کہ میں اسی کمرے میں رہوں۔چنانچہ میری چار پائی الگ کر دو۔تو حضرت چوہدری صاحب کی والدہ نے نوکر کو کہا کہ باہر مردانے میں ان کی چار پائی لے جاؤ۔اور ذرہ بھی پرواہ نہیں کی۔پھر چند دن کے بعد اللہ تعالیٰ نے بہر حال ان کو بھی احمدیت کی نعمت عطا فرمائی اور مخلصین کی صف میں ان کا بہت بلند مقام ہے۔منظور احمد صاحب سالک ولد خدا بخش صاحب ساکن کوٹ محمد یار اپنی نانی کے متعلق لکھتے ہیں کہ ان کی رؤیا کے نتیجے میں ہمارا خاندان احمدی ہوا ہے۔کہتی ہیں کہ جب ہم احمدی نہیں ہوئے تھے اور کشمکش میں تھے تو میں نے دیکھا کہ ایک شخص میرے سرہانے کھڑا ہے اور اُس نے مجھے دو چٹھیاں دی ہیں ان میں سے ایک چٹھی پر سنہری حروف میں لکھا ہے ” حضرت مہدی مسیح موعود “ اور دوسری چٹھی خالی ہے وہ کہتا ہے ان کو پکڑو۔غور سے جب میں دیکھتی ہوں تو جس پر حضرت غلام احمد مسیح موعود لکھا ہے وہ چٹھی اچانک روشن ہو جاتی ہے اور بے حد چمک اُٹھتی ہے تو یہ دیکھنے کے بعد مجھے ذرہ بھر بھی شک باقی نہیں رہا۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود کی صداقت کا نشان دکھایا ہے۔اس رؤیا کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے، اس سعید فطرت خاندان نے بیعت کر لی۔ایک کشمیری خاندان کی اشد مخالف خاتون جو احمدیت کا نام بھی برداشت نہیں کر سکتی تھی ان کا نام سرور سلطانہ بیگم ہے اور ان کا سارا خاندان ہی مخالف تھا ان کی احمدیت کا واقعہ بھی ایسا ہی ہے کہ انہوں نے رؤیا کے ذریعے احمدیت کی صداقت کا نشان پایا۔چنانچہ جب حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی وفات ہوئی تو سرور سلطانہ صاحبہ نے خواب دیکھا جس میں میرا نام لکھا ہے کہ اس کی تصویر دکھائی گئی۔یعنی وہ خاتون جو احمدیت کی سخت معاند میرے نام سے بھی واقف نہیں میری تصویر اور شکل سے بھی واقف نہیں اس کو تصویر دکھائی گئی اور کہا گیا کہ ان کے ذریعے خدمتِ اسلام کا عظیم الشان کام ہوگا اور یہی اب امام جماعت احمد یہ ہیں۔چنانچہ انہوں نے اپنی اس خواب کا لوگوں سے ذکر کیا اور جب میری تصویر ان کو دکھائی گئی تو بے ساختہ پہچان کر کہا کہ ہاں یہی تھا جس کو میں نے رویا میں دیکھا تھا اور