اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 332 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 332

حضرت خلیفہ آسیح الرابع' کے مستورات کے خطابات ۳۳۲ خطاب ۳۱ ر جولائی ۱۹۹۳ء کافی تکلیف اٹھاؤ گی لیکن بالآخر ضر ور شفا پا جاؤ گی۔مراد ی تھی کہ دو دفعہ انکار کیوں کیا ہے پہلی مرتبہ ہی چھلانگ لگا دیتی تو اللہ کے فضل سے جلدی بلائل جاتی۔کہتی ہیں ایسا ہی ہوا بہت لمبی تکلیف دیکھی مگر بالآخر حضرت اماں جان کی گود میں آگئی اور پھر اس کے بعد ساری زندگی اچھی صحت سے کئی ہے۔سلیمہ بی بی صاحبہ کھیوہ باجوہ بیان کرتی ہیں کہ مجھے شدید بخار ہوا۔ڈاکٹر کو بلایا گیا اس نے بتایا کہ ٹائیفائیڈ کا دوبارہ حملہ ہوا ہے۔تمام اہل خانہ میری زندگی سے مایوس ہو چکے تھے۔ڈاکٹر نے مجھے بے علاج سمجھا اور میں نے بھی محسوس کیا کہ میری زندگی کا چراغ گل ہونے والا ہے اس رات میں نے بہت دعائیں کیں اور رویا میں میں نے دیکھا کہ ہمارے گاؤں کے قریب ایک ریت کا ٹیلہ ہے اور سارا گاؤں اکٹھا ہے اور سبز لباس والے درویش دو اونٹوں کو گھما رہے ہیں۔پھر ان میں سے ایک کہنے لگا کہ جب ان اونٹوں کا اکیسواں پھیرا آیا تو اس لڑکی کی روح قفس عنصری سے پرواز کر جائے گی۔پھر گاؤں کے تمام لوگوں نے یک زبان ہو کے پوچھا کہ اس لڑکی کے بچنے کی کوئی ایک صورت بھی ہے تو اس پر وہ سبز پوش بوڑھا ملنگ کہنے لگا اگر اس کا باپ تمام جائیداد اس کاغذ پر لکھ دے تو ہم اس لڑکی کو بچا سکتے ہیں۔میرے باپ کا رنگ اس وقت زرد تھا لیکن اس لفظ سے اس کے غمگین چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔وہ کہنے لگا صرف جائیداد؟ میں تو اس کا غذ پر اپنی جان بھی لکھ کر دینے کو تیار ہوں۔چنانچہ اس آدمی نے وہ کاغذ آگے بڑھایا اور میرا باپ قلم پکڑ کر دستخط کرنے لگا اس پر میں نے اپنے باپ کا ہاتھ پکڑ لیا کہ میں اپنے خوشحال باپ کو افلاس زدہ نہیں دیکھ سکتی۔اے میرے پیارے باپ میں اپنے بھائیوں کو ننگے جسم نہیں دیکھ سکتی اور پھر میں نے اس ملنگ کی طرف منہ کر کے کہا۔تمہارا میری جان کے ساتھ کیا تعلق یہ تمام چیزیں تو اس خدا وند کریم کے ہاتھ میں ہیں جو ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے۔تمہاری یہ شاطری اب زیادہ دیر نہیں چل سکتی۔اب مقدس مسیح کا زمانہ شروع ہو چکا ہے۔تمہاری تلوار میں زنگ آلود ہو چکی ہیں۔تم مسیح کی تیز تلوار سے ڈرو اور پھر میں اونچی آواز سے پڑھتی ہوں الا ام دشمن نادان وب اے بترس از تیغ بران مح راه اتنے میں لوگوں میں چہ میگوئیاں ہوتی ہیں کہ اس لڑکی کا ماموں محمد لطیف آگیا ہے اس کا نام سنتے ہی ملنگ کا رنگ اُڑ گیا اور وہ فوراً بھاگ اُٹھا۔پھر لوگوں نے کہا ر بوہ سے ابراہیم بقا پوری آرہے ہیں۔اس پر ایسا معلوم ہوا جیسے اس لفظ نے ملنگ پر جادو کا سا اثر کر دیا ( یعنی بھا گا ابھی نہیں اس کے بعد