اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 27 of 705

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 27

حضرت خلیفہ امسیح الرابع" کے مستورات سے خطابات ۲۷ خطاب ۲۷/ دسمبر ۱۹۸۳ء حضرت خدیجہ کے بعد سب سے زیادہ محبت اور پیار کا سلوک حضرت عائشہؓ کے ساتھ دکھائی دیتا ہے۔چنانچہ حضرت عمرو بن العاص روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے آپ کو ذات السلاسل کے غزوہ پر جانے کا ارشاد فرمایا اور بطور امیر لشکر وہاں بھجوانا تھا۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی یا رسول اللہ ! آپ کو لوگوں میں سب سے زیادہ محبوب کون ہے فرمایا عائشہ میں نے عرض کی مردوں میں سے کون ہے فرمایا اس کا باپ۔معلوم ہوتا ہے حضرت عمرو بن العاص چونکہ ایک ایسے محاذ پر جارہے تھے جہاں امکان تھا کہ زندہ بچ کر نہیں آئیں گے اور شہید ہو جائیں گے تو پتہ نہیں کہ کون سی تمنالے کر یہ حاضر ہوئے تھے کہ کس کا نام حضور صلی اللہ علیہ وسلم لیں گے۔شاید دل کے کونے میں یہ بھی خیال ہو کہ شاید میرا نام آجائے۔پہلے عورتوں کا نام لیا گیا تو پھر عرض کی یا رسول اللہ ! مردوں میں سے پوچھ رہا ہوں تو فرمایا مردوں میں سے عائشہ کا باپ۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو جو حضرت عائشہ سے پیار تھا وہ ایسا بے تکلف انسانی پیار ہے کہ آج کل کا کوئی انسان سوچ بھی نہیں سکتا کہ اتنا عظیم الشان انسان اس طرح بے تکلفی سے اپنے گھر میں روز مرہ سلوک کر سکتا ہے۔آج کل تو بڑے عہدوں کے ساتھ بھی گردنیں اکڑ جاتی ہیں۔آج تو بڑے بڑے منصبوں کے اُوپر جا کر انسان جھک کر بات کرنا پسند نہیں کرتا۔تو وہ آقا ہمارا جو ساری کائنات کا آقا تھا ، جس کی خاطر زمین و آسمان کو پیدا کیا گیا، اس کی گھریلو زندگی کو دیکھیں تو عقل دنگ رہ جاتی ہے۔حضرت عائشہ کی بہت چھوٹی عمر تھی، ابھی کھیلتی تھیں جب آپ کی شادی ہوئی۔حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم جب غزوہ تبوک اور خیبر سے واپس ہوئے تو گھر کے دروازے پر پردہ لٹکا ہوا تھا ہوا چلنے سے پردہ سر کا تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر حضرت عائشہ کی گڑیوں پر جاپڑی، اس وقت وہ گڑیا سے کھیلا کرتی تھیں۔اُن گڑیوں کے درمیان میں گھوڑا بھی تھا۔جس کے پر کپڑے کے بنے ہوئے تھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا تو بڑی شفقت سے فرمایا کہ یہ گڑیوں کے درمیان تم نے کیا رکھا ہوا ہے؟ حضرت عائشہؓ نے عرض کی کہ گھوڑا ہے۔فرمایا کہ اس کے اوپر کیا لگا ہوا ہے؟ کہنے لگیں دو پر ہیں۔حضور نے پوچھا کہ کیا کبھی گھوڑوں کے بھی پر ہوتے ہیں۔کہنے لگیں کہ کیا آپ نے سلیمان کے پردار گھوڑوں کے بارے میں کچھ نہیں سن رکھا ( بخاری کتاب الادب) تو کس طرح بے تکلفی سے پیار اور محبت کی باتیں گھروں میں ہوا کرتی تھیں۔کوئی سوچ بھی نہیں سکتا کہ یہ ساری کائنات کا سردار ہے۔جو ایک بچی سے اس طرح بے تکلفی اور پیار کے ساتھ باتیں کرتا ہے۔