اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول — Page 291
حضرت خلیفہ مسیح الرابع' کے مستورات سے خطابات ۲۹۱ خطاب ۱۲ ستمبر ۱۹۹۲ء ہوں کہ برلن مسجد کا سارا خرچ احمدی خواتین ادا کریں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے خواتین نے اس دعوت کو قبول کیا۔بڑے جذبے کے ساتھ لبیک کہا اور عظیم الشان قربانیوں کے نظارے آسمان پر احمدیت پر ستاروں کی صورت میں لکھے گئے۔اسی طرح بیت الفضل لنڈن میں بھی احمدی خواتین نے غیر معمولی کردار ادا کیا۔اور بیت المبارک ہیگ میں بھی جو احمدی خواتین کی قربانی سے بنائی گئی۔بیت نصرت جہاں کو پن ہیگن بھی احمدی خواتین کی قربانی سے بنائی گئی۔حضرت مصلح موعود حضرت اماں جان سے متعلق فرماتے ہیں کہ بڑی رقموں میں سے ایک رقم حضرت اماں جان کی طرف سے پانچ سو روپے کی تھی۔ہماری جائیداد کا ایک حصہ فروخت ہوا تھا اس میں سے ان کا حصہ ۵۰۰ روپے بنتا تھا انہوں نے وہ سب کا سب اس چندہ میں دے دیا۔میں جانتا ہوں کہ ان کے پاس بس یہی نقد مال تھا۔حضرت مصلح موعود اسی جرمنی میں بیت کی تعمیر کے سلسلہ میں لکھتے ہیں کہ آپ نے یہ تحریک فرمائی کہ اگر اس کام کو صرف عورتیں ہی مل کر پورا کریں تو یہ سلسلہ کی بہترین خدمات میں سے ایک خدمت شمار ہوگی اور آئندہ آنے والی نسلیں ہماری عورتوں کی سعی اور ان کی ہمت کو دیکھ کر اپنے ایمانوں کو تازہ کریں گی اور ان کے دلوں سے بے اختیار ان کے لئے دعا نکلے گی۔جو ہمیشہ کے لئے موت کے بعد کی زندگی میں ان کے درجوں کی ترقی کا موجب ہوتی رہے گی۔اس قدر چندہ کی وصولی خاص تائید الہی کے بغیر نہیں ہو سکتی تھی اور میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل اس چندہ کے ساتھ شامل ہے۔ان دنوں میں قادیان کے لوگوں کا جوش و خروش دیکھنے کے قابل تھا اور اس کا وہی لوگ ٹھیک اندازہ کر سکتے ہیں جنہوں نے اس کو آنکھوں سے دیکھا ہو۔مرد اور عورت اور بچے سب ایک خالص نشہ محبت میں چور نظر آتے تھے کئی عورتوں نے اپنے زیور اتار دیئے اور بہتوں نے ایک دفعہ چندہ دے کر پھر دوبارہ جوش آنے پر اپنے بچوں کی طرف سے چندہ دینا شروع کیا پھر بھی جوش کو بتا نہ دیکھ کر اپنے وفات یافتہ رشتہ داروں کے نام سے چندہ دیا۔چونکہ جوش کا یہ حال تھا کہ ایک بچے نے جو ایک غریب اور محنتی آدمی کا بیٹا تھا مجھے ساڑھے تیرہ روپے بھیجے کہ مجھے جو پیسے خرچ کے لئے ملتے تھے ان کو میں جمع کرتا رہتا تھا وہ میں سب کے سب اس چندہ کے لئے دیتا ہوں۔نا معلوم کن کن امنگوں کے ماتحت اس بچے نے وہ پیسے جمع کئے ہوں گے لیکن اس کے مذہبی جوش نے خدا کی راہ میں ان پیسوں کے ساتھ ان امنگوں کو بھی قربان کر دیا۔حضرت مصلح موعود اس زمانے میں برلن بیت الذکر کی تحریک کے دوران ایک احمدی پٹھان